ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنفال (8) — آیت 4

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ مَغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ۚ﴿۴﴾
یہی لوگ سچے مومن ہیں، انھی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے
En
سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ یہی سچے مومن ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں درجات ہیں، بخشش ہے اور عزت کی روزی [7] ہے
[7] سچے مومنوں کا درجہ:۔
جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہو جانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہو گی اور بدنی عبادات کے عوض مغفرت ہو گی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔