4۔ یہی سچے مومن ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں درجات ہیں، بخشش ہے اور عزت کی روزی [7] ہے
[7] سچے مومنوں کا درجہ:۔
جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہو جانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہو گی اور بدنی عبادات کے عوض مغفرت ہو گی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔