اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ یہی سچے مومن ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں درجات ہیں، بخشش ہے اور عزت کی روزی [7] ہے
[7] سچے مومنوں کا درجہ:۔
جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہو جانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہو گی اور بدنی عبادات کے عوض مغفرت ہو گی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُالْمُؤْمِنُوْنَحَقًّا﴾”وہی حقیقی مومن ہیں “ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهُمْدَرَجٰؔتٌعِنْدَرَبِّهِمْ ﴾”اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغْفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزْقٌكَرِیْمٌ ﴾”اور عزت کی روزی۔“ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولئك}: الذين اتَّصفوا بتلك الصفات، {هم المؤمنون حقًّا}: لأنهم جمعوا بين الإسلام والإيمان، بين الأعمال الباطنة والأعمال الظاهرة، بين العلم والعمل، بين أداء حقوق الله وحقوق عباده.
وقدَّم تعالى أعمال القلوب لأنَّها أصلٌ لأعمال الجوارح وأفضلُ منها. وفيها دليلٌ على أن الإيمان يزيدُ وينقُصُ؛ فيزيدُ بفعل الطاعة وينقُصُ بضدِّها. وأنه ينبغي للعبد أن يتعاهَدَ إيمانه ويُنْميه. وأنَّ أولى ما يحصُلُ به ذلك تدبُّر كتاب الله تعالى والتأمُّل لمعانيه. ثم ذكر ثواب المؤمنين حقًّا، فقال: {لهم درجاتٌ عند ربِّهم}؛ أي: عاليةٌ بحسب علوِّ أعمالهم. {ومغفرةٌ}: لذُنوبهم، {ورزقٌ كريمٌ}: وهو ما أعدَّ الله لهم في دار كرامته مما لا عين رأتْ ولا أذن سمعتْ ولا خطر على قلبِ بشرٍ. ودلَّ هذا على أنَّ مَن لم يصِلْ إلى درجتهم في الإيمان وإن دَخَلَ الجنة؛ فلن ينال ما نالوا من كرامةِ الله التامَّةِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔