قیامت کے ذکر میں فرعون کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے خاطر لایا گیا ہے۔ یعنی یہ مکہ کے کافر تو فرعون کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ مصر کے بہت سے علاقہ کا واحد حکمران انتہائی مغرور اور سرکش بادشاہ تھا۔ اس نے بھی جب ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اکڑ بیٹھا تو ہم نے اسے اور اس کی آل کو سمندر میں غرق کر دیا تھا۔ اور اب یہ کفار بھی اگر فرعون جیسا ہی کردار ادا کریں گے تو یہ اللہ کی گرفت سے کیونکر بچ سکیں گے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔