تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔
جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔
پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {هل أتاك حديثُ موسى}: وهذا الاستفهام عن أمرٍ عظيمٍ متحقِّق وقوعه؛ أي: هل أتاك حديثه. {إذ ناداه ربُّه بالوادِ المقدَّس طوىً}: وهو المحلُّ الذي كلَّمه الله فيه، وامتنَّ عليه بالرسالة، وابتعثه بالوحي، واجتباه ، فقال له: {اذهبْ إلى فرعونَ إنَّه طغى}؛ أي: فانهه عن طغيانه وشركه وعصيانه بقولٍ ليِّنٍ وخطابٍ لطيفٍ لعله يتذكر أو يخشى، {فَقُل له هل لك إلى أن تَزكَّى}؛ أي: هل لك في خصلةٍ حميدةٍ ومحمدةٍ جميلةٍ يتنافس فيها أولو الألباب؟ وهي أن تزكِّيَ نفسك وتطهِّرَها من دَنَس الكفر والطغيان إلى الإيمان والعمل الصالح. {وأهدِيَك إلى ربِّك}؛ أي: أدلُّك عليه، وأبيِّن لك مواقع رضاه من مواقع سخطه، {فتخشى}: الله إذا علمت الصراط المستقيم. فامتنع فرعون ممَّا دعاه إليه موسى، {فأراه الآيةَ الكبرى}؛ أي: جنس الآية الكبرى؛ فلا ينافي تعدُّدها، {فألقى عصاه فإذا هي ثعبانٌ مبينٌ. ونزعَ يدَه فإذا هي بيضاءُ للنَّاظرين}. {فكذَّب}: بالحقِّ، {وعصى}: الأمر، {ثم أدبر يسعى}؛ أي: يجتهد في مبارزة الحقِّ ومحاربته. {فحشر}: جنودَه؛ أي: جمعهم، {فنادى. فقال}: لهم: {أنا ربُّكم الأعلى}: فأذعنوا له وأقرُّوا بباطله حين استخفَّهم. {فأخذه اللهُ نَكالَ الآخرةِ والأولى}؛ أي: جعل الله عقوبته دليلاً وزاجراً ومبيِّنةً لعقوبة الدُّنيا والآخرة.