ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النازعات (79) — آیت 10

یَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِی الۡحَافِرَۃِ ﴿ؕ۱۰﴾
یہ لوگ کہتے ہیں کیا بے شک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں؟ En
(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے
En
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں: کیا ہم پہلی حالت میں [8] لوٹائے جائیں گے؟
[8] ﴿حافرة﴾ کا لغوی معنی :۔
﴿الحَافِرَةَ ﴿حفر﴾ بمعنی گڑھا کھودنا اور ﴿حفرة﴾ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور ﴿حافرة﴾ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ﴿ردّ فى الحافرة﴾ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر: پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑ جائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔