ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النبأ (78) — آیت 40

اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰکُمۡ عَذَابًا قَرِیۡبًا ۬ۚۖ یَّوۡمَ یَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ وَ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا ﴿٪۴۰﴾
بلاشبہ ہم نے تمھیں ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہے، جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا اے کاش کہ میں مٹی ہوتا۔ En
ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا
En
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرایا ہے جو قریب آ پہنچا ہے۔ اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا: کاش میں مٹی [27] ہوتا۔
[27] اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہؓ کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہو گا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بے سینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہو گا۔ [مسلم كتاب، البرو الصله باب تحريم الظلم]
پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔