(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے واﻻ ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا
En
37۔ جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کا مالک ہے۔ بڑا مہربان ہے (اس دن) اس سے کوئی بات تک [24] نہ کر سکے گا
[24] یعنی اللہ تعالیٰ کی اہل جنت کو جود و عطا کا تو وہ حال ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے جلال، رعب اور دبدبے کا یہ حال ہو گا کہ جب تمام مخلوق قیامت کی ہولناکیوں سے گھبراہٹ میں مبتلا ہو گی تو کسی کو یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ وہ مخلوق خدا پر اللہ تعالیٰ سے رحم کے لیے سفارش کر سکے اور ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہو گا۔ حتیٰ کہ انبیاء بھی رب سلّموسلّم پکار رہے ہوں گے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کے لیے قرعہ فال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر پڑے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور سب کے لیے سفارش کریں گے۔ اس مضمون کی طویل اور مفصل حدیث سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 255 کے تحت گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔