تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] یعنی ’ کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے ‘۔
اور جگہ ہے «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [11-ھود:105] ’ جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا ‘۔
روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:194،193] ’ اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے ‘، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔
چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف]
طبرانی میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ } ۱؎ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806]
پھر فرمایا کہ ’ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ‘، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
پھر فرمایا کہ ’ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے ‘۔
جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الکھف:49] ’ جو کیا اسے سامنے پا لیں گے ‘ اور جگہ ہے، «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ’ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ‘۔
اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: الذي أعطاهم هذه العطايا هو ربُّهم، {ربُّ السمواتِ والأرضِ}: الذي خلقها ودبَّرها. {الرحمن}: الذي رحمته وسعتْ كلَّ شيءٍ، فربَّاهم ورحمهم ولطف بهم حتى أدركوا ما أدركوا. ثم ذكر عَظَمَتَه وملكَه العظيم يوم القيامةِ، وأنَّ جميع الخلق كلَّهم ساكتون ذلك اليوم لا يتكلَّمون و {لا يملِكونَ منه خطاباً}؛ {إلاَّ مَنْ أذِنَ له الرحمن وقال صواباً}: فلا يتكلَّم أحدٌ إلاَّ بهذين الشرطين: أن يأذنَ الله له في الكلام، وأنْ يكونَ ما تكلَّم به صواباً؛ لأنَّ {ذلك اليوم} [هو] {الحقُّ}: الذي لا يَروج فيه الباطلُ ولا ينفعُ فيه الكذب. وفي ذلك اليوم {يقومُ الرُّوح}: وهو جبريلُ عليه السلام، الذي هو أفضلُ الملائكة، {والملائكةُ}: أيضاً يقوم الجميع {صفًّا}: خاضعين لله، لا يتكلَّمون إلاَّ بإذنه. فلمَّا رَغَّب ورَهَّب وبشَّرَ وأنذر؛ قال: {فَمَن شاء اتَّخذ إلى ربِّه مآباً}؛ أي: عملاً وقَدَمَ صدقٍ يرجع إليه يوم القيامةِ.