41۔ پرہیزگار [24] (اس دن) سایوں اور چشموں میں ہوں گے
[24] یہاں متقین کا لفظ مکذبین کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی آیات کی اور قیامت کے دن کی تصدیق کرتے تھے۔ اللہ سے اور قیامت کے دن کی سختیوں سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی سے ڈر کر ممکن حد تک اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہو گا کہ وہ جنت کے ٹھنڈے اور پر سکون سایوں میں ہوں گے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے وہاں وافر تعداد میں ہوں گے۔ کھانے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسب پسند پھل ملیں گے۔ وہ جتنا کچھ بھی کھا پی لیں گے اس سے انہیں کسی قسم کی کچھ تکلیف نہ ہو گی۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں بجا لاتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد محض ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی کہ کوئی شخص بھی اپنے اعمال کی وجہ سے جنت نہیں جا سکتا بلکہ محض اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی کی بنا پر جنت میں جائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔