تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے باربار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو! تم باخوشی اور با فراغت لذیذ پر کیف طَعام خوب کھاؤ پیو، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ‘۔
ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ ’ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتا لو، فائدے اٹھا لو، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے ‘۔ جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔
’ تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی کو، ہماری وحی کو، نہ ماننے والا، اسے جھوٹا جاننے والا، قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ’ دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کردیں گے ‘۔
اور جگہ فرمان ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:69] یعنی ’ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے ‘۔
پھر فرمایا ’ جب یہ لوگ اس پاک کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟۔
جیسے اور جگہ ہے «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:6] یعنی ’ اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ ‘، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں «آمَنْت بِاَللَّهِ وَبِمَا أَنْزَلَ» کہنا چاہیئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث سورۃ القیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔
سورۃ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر عقوبة المكذِّبين؛ ذكر مثوبة المحسنين، فقال: {إنَّ المتَّقين}؛ أي: للتكذيب، المتَّصفين بالتَّصديق في أقوالهم وأفعالهم وأعمالهم، ولا يكونون كذلك إلاَّ بأدائهم الواجبات وتركهم المحرَّمات، {في ظلالٍ}: من كثرة الأشجار المتنوِّعة الزاهرة البهيَّة، {وعيونٍ}: جاريةٍ من السلسبيل والرحيق وغيرهما، {وفواكهَ ممَّا يشتهونَ}؛ أي: من خيار الفواكه وأطيبها ، ويقال لهم: {كُلوا واشْرَبوا}: من المآكل الشهيَّة والأشربة اللَّذيذة، {هنيئاً}؛ أي: من غير منغِّص ولا مكدِّر، ولا يتمُّ هناؤه حتى يسلمَ الطعام والشرابُ من كلِّ آفةٍ ونقصٍ، وحتى يجزموا أنَّه غيرُ منقطع ولا زائل؛ {بما كنتُم تعملونَ}: فأعمالكم هي السبب الموصل لكم إلى جنَّات النعيم المقيم، وهكذا كلُّ من أحسن في عبادة الله وأحسن إلى عباد الله، ولهذا قال: {إنَّا كذلك نجزي المحسِنينَ. ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبين}: ولو لم يكن من هذا الويل إلاَّ فوات هذا النعيم؛ لكفى به حزناً وحرماناً.