ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القيامة (75) — آیت 1

لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾
نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں! En
ہم کو روز قیامت کی قسم
En
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ میں قیامت کی دن کی قسم کھاتا [1] ہوں
[1] قسم کھانے سے مقصد بعض دفعہ تو اپنی بات کو مؤکد بنانا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ قسم بطور شہادت یا شہادت کو مزید مؤکد بنانے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ اور ایسی چیز کی کھائی جاتی ہے جسے انسان بہرحال اپنی ذات سے بالاتر سمجھتا ہو۔ اور چونکہ انسان خود اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم انسانوں کو یہی حکم ہے کہ اگر قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے تو صرف اللہ کی ذات کی یا اس کی صفات کی کھائی جائے۔ اس کے علاوہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اور حرام ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کو اہم سمجھتے ہوئے قسم اٹھانا چاہے بطور شہادت اور دلیل پیش کر کے قسم اٹھا سکتا ہے۔ مثلاً یہی قیامت کا دن جسے برپا کرنا اللہ کے انتہائی مہتم بالشان کارناموں سے ایک کارنامہ ہو گا اور یہ ایسی چیز تھی جس کا کفار مکہ یکسر انکار کر رہے تھے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی یقین دہانی کی خاطر قیامت کے دن کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ وہ یقیناً واقع ہو کے رہے گی۔