9۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا اسے ہی اپنا کارساز [10] بنا لیجیے۔
[10] وکیل کا لفظ ہماری زبان میں بھی ٹھیک اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس میں عربی زبان میں مستعمل ہے۔ ہم جب مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں تو سب ذمہ داری اس کے سپرد کر کے خود مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کر دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔