1۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) جو کپڑا اوڑھے [1][2] ہوئے (سونے لگے) ہو
[1] اس سورت کے دو رکوع ہیں۔ پہلا رکوع بالاتفاق مکہ میں اور ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا۔ جبکہ دوسرا رکوع مدنی دور میں نازل شدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں قتال فی سبیل اللہ کا بھی ذکر ہے اور فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ کا بھی اور یہ دونوں باتیں مدنی دور میں فرض ہوئی تھیں۔ مکی دور میں قتال فی سبیل اللہ کی تو اجازت ہی نہیں دی گئی تھی اسی طرح مکی دور میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم تو موجود تھا، لیکن زکوٰۃ کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ [2] انداز خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے کے لیے بستر پر چادر اوڑھ کر لیٹ چکے تھے۔ اور اس لطیف انداز خطاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ اب پاؤں پھیلا کر اور بے فکر ہو کر سونے کے دن بیت چکے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریاں کچھ اور قسم کی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔