ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 79

فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
تو وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی اور لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ پھر صالح یہ کہتا ہوا ان کے ہاں سے چلے گئے: ”اے قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی [84] بھی کی لیکن تم تو خیرخواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے“
[84] ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب:۔
حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہو گی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالحؑ پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالحؑ کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کر دیا تھا چنانچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس قوم پر عذاب نازل ہو گیا فلسطین پہنچ کر آپ اپنے ساتھیوں سمیت رملہ کے قریب آباد ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد اسی مقام پر وفات پائی۔