تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976]
سیرت کی کتابوں میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف]
یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فتولَّى عنهم}: صالحٌ عليه السلام حين أحلَّ الله بهم العذاب، {وقال}: مخاطباً لهم توبيخاً وعتاباً بعدما أهلكهم الله: {يا قوم لقد أبلغتُكُم رسالةَ ربِّي ونصحتُ لكم}؛ أي: جميع ما أرسلني الله به إليكم قد أبلغتُكم به وحرصت على هدايتكم واجتهدتُ في سلوككم الصراط المستقيم والدين القويم، {ولكن لا تحبُّونَ الناصحين}: بل رددتُم قول النُّصحاء، وأطعتم كلَّ شيطان رجيم.
واعلم أن كثيراً من المفسِّرين يذكرون في هذه القصة أنَّ الناقة خرجت من صخرةٍ صماء ملساء اقترحوها على صالح، وأنها تمخَّضت تمخُّض الحامل، فخرجت الناقة وهم ينظرون، وأن لها فصيلاً حين عقروها رغى ثلاث رغيات وانفلق له الجبل ودخل فيه، وأن صالحاً عليه السلام قال لهم: آية نزول العذاب بكم أن تصبحوا في اليوم الأول من الأيام الثلاثة ووجوهكم مصفرَّة، واليوم الثاني محمرَّة، والثالث مسودَّة، فكان كما قال.
وهذا من الإسرائيليات التي لا ينبغي نقلها في تفسير كتاب الله، وليس في القرآن ما يدلُّ على شيء منها بوجه من الوجوه، بل لو كانت صحيحةً لَذَكَرها الله تعالى؛ لأن فيها من العجائب والعبر والآيات ما لا يهمله تعالى ويدع ذِكْرَهُ حتى يأتي من طريق مَنْ لا يوثَق بنقله، بل القرآن يكذِّب بعض هذه المذكورات؛ فإنَّ صالحاً قال لهم: {تمتَّعوا في دارِكُم ثلاثة [أيام]}؛ أي: تنعَّموا وتلذَّذوا بهذا الوقت القصير جدًّا؛ فإنه ليس لكم من المتاع واللَّذَّة سوى هذا، وأيُّ لذَّة وتمتُّع لمن وعدهم نبيُّهم وقوع العذاب وذكر لهم وقوع مقدِّماته فوقعت يوماً فيوماً على وجهٍ يعمُّهم ويشمُلهم؛ لأن احمرار وجوههم واصفرارها واسودادها من العذاب؟! هل هذا إلا مناقض للقرآن ومضادٌّ له؟! فالقرآن فيه الكفاية والهداية عن ما سواه. نعم؛ لو صحَّ شيء عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مما لا يناقض كتاب الله؛ فعلى الرأس والعين، وهو مما أمر القرآن باتباعه: {وما آتاكُمُ الرسولُ فُخذوه وما نهاكم عنه فانتَهوا}. وقد تقدَّم أنه لا يجوز تفسير كتاب الله بالأخبار الإسرائيليَّة، ولو على تجويز الرواية عنهم بالأمور التي لا يُجْزَمُ بكذِبِها؛ فإنَّ معاني كتاب الله يقينيَّة، وتلك أمور لا تصدَّق ولا تكذَّب؛ فلا يمكن اتفاقهما.