ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 79

فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
تو وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی اور لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ En
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
En
اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79){ فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ......:} یہ اسی قسم کا خطاب تھا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مشرک مقتولین سے کیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۴۳) کی تفسیر۔ دوسرے تمام انبیاء کے ذکر میں {رِسٰلٰتِ رَبِّيْ } جمع کا لفظ ہے اور یہاں{ رِسَالَةَ رَبِّيْ } واحد ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک ہی معجزہ تھا، یعنی اونٹنی۔(نظم الدرر) (واﷲ اعلم)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

79۔ 1 یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے، جس طرح رسول اللہ نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد جنگ بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ پھر صالح یہ کہتا ہوا ان کے ہاں سے چلے گئے: ”اے قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی [84] بھی کی لیکن تم تو خیرخواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے“
[84] ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب:۔
حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہو گی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالحؑ پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالحؑ کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کر دیا تھا چنانچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس قوم پر عذاب نازل ہو گیا فلسطین پہنچ کر آپ اپنے ساتھیوں سمیت رملہ کے قریب آباد ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد اسی مقام پر وفات پائی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صالح علیہ السلام ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں ٭٭
قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس و حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق صالح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا، نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی۔ تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی۔
چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976]‏‏‏‏
سیرت کی کتابوں میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف]‏‏‏‏
یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد میں ہے کہ { حج کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان پہنچے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ آپ نے جواب دیا: وادی عسفان۔ فرمایا: میرے سامنے سے ہود اور صالح علیہما السلام ابھی ابھی گزرے، اونٹنیوں پر سوار تھے جن کی نکیلیں کھجور کے پتوں کی تھیں۔ کمبلوں کے تہ بند بندھے ہوئے اور موٹی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ لبیک پکارتے ہوئے بیت اللہ شریف کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:232/1:ضعیف]‏‏‏‏
یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالح علیہ السلام ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح علیہ السلام سے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالح علیہ السلام نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالح علیہ السلام نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔
ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا: ﴿ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰ٘ثَةَ اَیَّامٍ (ہود: ؍11۔65) اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟
جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں! جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا (الحشر: 59؍7) جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔
گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فتولَّى عنهم}: صالحٌ عليه السلام حين أحلَّ الله بهم العذاب، {وقال}: مخاطباً لهم توبيخاً وعتاباً بعدما أهلكهم الله: {يا قوم لقد أبلغتُكُم رسالةَ ربِّي ونصحتُ لكم}؛ أي: جميع ما أرسلني الله به إليكم قد أبلغتُكم به وحرصت على هدايتكم واجتهدتُ في سلوككم الصراط المستقيم والدين القويم، {ولكن لا تحبُّونَ الناصحين}: بل رددتُم قول النُّصحاء، وأطعتم كلَّ شيطان رجيم.

واعلم أن كثيراً من المفسِّرين يذكرون في هذه القصة أنَّ الناقة خرجت من صخرةٍ صماء ملساء اقترحوها على صالح، وأنها تمخَّضت تمخُّض الحامل، فخرجت الناقة وهم ينظرون، وأن لها فصيلاً حين عقروها رغى ثلاث رغيات وانفلق له الجبل ودخل فيه، وأن صالحاً عليه السلام قال لهم: آية نزول العذاب بكم أن تصبحوا في اليوم الأول من الأيام الثلاثة ووجوهكم مصفرَّة، واليوم الثاني محمرَّة، والثالث مسودَّة، فكان كما قال.

وهذا من الإسرائيليات التي لا ينبغي نقلها في تفسير كتاب الله، وليس في القرآن ما يدلُّ على شيء منها بوجه من الوجوه، بل لو كانت صحيحةً لَذَكَرها الله تعالى؛ لأن فيها من العجائب والعبر والآيات ما لا يهمله تعالى ويدع ذِكْرَهُ حتى يأتي من طريق مَنْ لا يوثَق بنقله، بل القرآن يكذِّب بعض هذه المذكورات؛ فإنَّ صالحاً قال لهم: {تمتَّعوا في دارِكُم ثلاثة [أيام]}؛ أي: تنعَّموا وتلذَّذوا بهذا الوقت القصير جدًّا؛ فإنه ليس لكم من المتاع واللَّذَّة سوى هذا، وأيُّ لذَّة وتمتُّع لمن وعدهم نبيُّهم وقوع العذاب وذكر لهم وقوع مقدِّماته فوقعت يوماً فيوماً على وجهٍ يعمُّهم ويشمُلهم؛ لأن احمرار وجوههم واصفرارها واسودادها من العذاب؟! هل هذا إلا مناقض للقرآن ومضادٌّ له؟! فالقرآن فيه الكفاية والهداية عن ما سواه. نعم؛ لو صحَّ شيء عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مما لا يناقض كتاب الله؛ فعلى الرأس والعين، وهو مما أمر القرآن باتباعه: {وما آتاكُمُ الرسولُ فُخذوه وما نهاكم عنه فانتَهوا}. وقد تقدَّم أنه لا يجوز تفسير كتاب الله بالأخبار الإسرائيليَّة، ولو على تجويز الرواية عنهم بالأمور التي لا يُجْزَمُ بكذِبِها؛ فإنَّ معاني كتاب الله يقينيَّة، وتلك أمور لا تصدَّق ولا تكذَّب؛ فلا يمكن اتفاقهما.