ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 50

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ اَفِیۡضُوۡا عَلَیۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۰﴾
اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو، یا اس میں سے کچھ جو اللہ نے تمھیں رزق دیا ہے۔ وہ کہیں گے بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔ جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ اور دوزخی اہل جنت کو آواز دیں گے کہ: ”ہم پر بھی کچھ پانی انڈیل دو یا اللہ نے جو کچھ تمہیں کھانے کو دیا ہے اس میں سے کچھ گرا دو“ اہل جنت جواب دیں گے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی [49] ہیں
[49] دوزخی جب آگ میں جل رہے ہوں گے تو اپنے دنیا کے شناسا اہل جنت سے فریاد کریں گے کہ ہم پر کچھ پانی ہی گرا دو تاکہ ہمیں کچھ آرام مل سکے یا کچھ کھانے کے لیے ہی گرا دو۔ اہل جنت اس کا یہ جواب دیں گے کہ یہ چیزیں تم پر حرام کر دی گئی ہیں لہٰذا ہم اللہ کی نافرمانی کر کے خود گناہ گار نہیں بننا چاہتے۔