9۔ اور فرعون [7] اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور جو الٹائی ہوئی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے۔
[7] قوم عاد نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ ﴿مَنْاَشَدُّمِنَّاقُوَّةً﴾ اور فرعون وہ تھا جس نے ﴿اَنَارَبُّكُمُالْاَعْلٰي﴾ کا نعرہ لگایا تھا۔ فرعون اور آل فرعون کو اللہ نے سمندر میں ڈبو دیا تو اس وقت اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اپنے خدائی کے دعوے میں کس حد تک سچا تھا اور آج کس قدر مجبور ہے۔ فرعون کی قوم کے علاوہ بھی کئی قوموں نے آخرت کے عقیدہ سے انکار کیا۔ پھر سرکشی کی راہ اختیار کی تو نتیجتاً انہیں بھی تباہ و برباد کر دیا گیا۔ ان سب قوموں میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچا۔ سب کے سب ہلاک کر دیئے گئے۔ اور ان سب کا سب سے بڑا گناہ جو ان میں قدر مشترک کے طور پر پایا جاتا تھا، یہ تھا کہ انہوں نے سرے سے رسولوں کو اور اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔