ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القلم (68) — آیت 51

وَ اِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَیُزۡلِقُوۡنَکَ بِاَبۡصَارِہِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکۡرَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّہٗ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۵۱﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا یقینا قریب ہیں کہ تجھے اپنی نظروں سے (گھور گھور کر) ضرور ہی پھسلا دیں، جب وہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یقینا یہ تو دیوانہ ہے۔ En
اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے یہ تو دیوانہ ہے
En
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اور کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے [28] دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم ڈگمگا دیں گے اور کہتے ہیں کہ: ”یہ تو ایک دیوانہ ہے“
[28] یعنی جب آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ آپ کو یوں گھورنے لگتے ہیں اور آپ پر اپنی نظریں گاڑ کر ایسا مقناطیسی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس سے آپ مرعوب ہو کر یہ کام چھوڑ دیں۔ پھر بڑی حقارت کے ساتھ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ آدمی ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوانہ اس لیے کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عقل اور ان کے عقیدہ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ پھر صرف آپ کی قوم نے ہی آپ کو مجنون نہیں کہا بلکہ ہر رسول کو دیوانہ کہا جاتا رہا ہے۔ اور یہ دراصل قوم کے اپنے رسولوں کے خلاف معاندانہ رویہ کے اظہار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک نبی اور ایک مجنون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کی دعوت گو معاشرہ کی عقل اور دستور کے خلاف ہوتی ہے۔ تاہم وہ ہمیشہ اپنی ذات پر قائم رہتا، اس پر عمل کر کے دکھاتا اور اپنی پاکیزہ سیرت و کردار سے اپنی بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ جبکہ مجنون ان تینوں باتوں سے عاری ہوتا ہے۔