وَ اِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَیُزۡلِقُوۡنَکَ بِاَبۡصَارِہِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکۡرَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّہٗ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۵۱﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا یقینا قریب ہیں کہ تجھے اپنی نظروں سے (گھور گھور کر) ضرور ہی پھسلا دیں، جب وہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یقینا یہ تو دیوانہ ہے۔
En
اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے یہ تو دیوانہ ہے
En
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 51) {وَ اِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ …:} اس آیت میں {” اِنْ “} اصل میں {” إِنَّ“} (نون مشدد کے ساتھ) تھا، کیونکہ بعد میں {” لَيُزْلِقُوْنَكَ “} پر لام آرہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے اور بت پرستی کی مذمت کرتے تو وہ سخت غصے میں آ کر آپ کو قہر کی نظر سے گھور گھور کر دیکھتے اور آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ سورۂ حج (۷۲) میں ہے کہ قریب ہے کہ وہ ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کر دیں۔ {” لَيُزْلِقُوْنَكَ “ ”أَزْلَقَ يُزْلِقُ“} (افعال) پھسلانا۔ اس کا معنی ”ہلاک کرنا“ بھی آتا ہے، کیونکہ پھسل کر گرنے سے آدمی ہلاک بھی ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ جب ذکر سنتے ہیں تو آپ کو اتنے غصے اور اتنی تیز نظروں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں جیسے آپ کو آپ کے موقف ہی سے پھسلا دیں گے۔ دوسرا معنی ہے جیسے آپ کو ہلاک ہی کر دیں گے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، فلاں شخص نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے مجھے کھا ہی جائے گا۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ بعض قبیلے ایسے تھے کہ جن کی نظر بہت جلد لگ جاتی تھی، اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری نظروں سے دیکھتے تھے، تاکہ آپ کو نظر لگ جائے۔ اگرچہ نظر کا حق ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لیکن یہاں اس تفسیر کا موقع نہیں، کیونکہ اگر کوئی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر دیکھے تو نظر لگا کرتی ہے، غصے کی نظر سے نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت میں ان کے دیکھنے کو {” لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ “} سے مقید کیا ہے، یعنی جب وہ ذکر سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے غصے کے وقت نظر لگنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ روایتیں بھی مضبوط نہیں ہیں۔ [کَذَا قَالَ صَاحِبُ أَحْسَنِ التَّفَاسِیْرِ وَ ابْنُ الْجَوْزِيْ فِيْ زَادِ الْمَسِیْرِ]
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ بعض قبیلے ایسے تھے کہ جن کی نظر بہت جلد لگ جاتی تھی، اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری نظروں سے دیکھتے تھے، تاکہ آپ کو نظر لگ جائے۔ اگرچہ نظر کا حق ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لیکن یہاں اس تفسیر کا موقع نہیں، کیونکہ اگر کوئی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر دیکھے تو نظر لگا کرتی ہے، غصے کی نظر سے نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت میں ان کے دیکھنے کو {” لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ “} سے مقید کیا ہے، یعنی جب وہ ذکر سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے غصے کے وقت نظر لگنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ روایتیں بھی مضبوط نہیں ہیں۔ [کَذَا قَالَ صَاحِبُ أَحْسَنِ التَّفَاسِیْرِ وَ ابْنُ الْجَوْزِيْ فِيْ زَادِ الْمَسِیْرِ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 یعنی اگر تجھے اللہ کی حمائت و حفاظت نہ ہوتی تو کفار کی حاسدانہ نظروں سے نظر بد کا شکار ہوجانا یعنی ان کی نظر تمہیں لگ جاتی۔ چناچہ امام ابن کثیر نے یہ مفہوم بیان کیا، مذید لکھتے ہیں ' یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر، اللہ کے حکم سے، اثر انداز ہونا، حق ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔ چناچہ حدیث میں اس سے بچنے کے لیے دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ماشاء اللہ یا بارک اللہ کہا کرو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔ یعنی حسد کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ لوگ اس قرآن سے متاثر نہ ہوں بلکہ اس سے دور ہی رہیں آنکھوں کے ذریعے سے بھی یہ کفار نبی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اور زبانوں سے بھی آپ کو دیوانہ کہہ کر ایذاء پہنچاتے اور آپ کے دل کو مجروح کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اور کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے [28] دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم ڈگمگا دیں گے اور کہتے ہیں کہ: ”یہ تو ایک دیوانہ ہے“
[28] یعنی جب آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ آپ کو یوں گھورنے لگتے ہیں اور آپ پر اپنی نظریں گاڑ کر ایسا مقناطیسی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس سے آپ مرعوب ہو کر یہ کام چھوڑ دیں۔ پھر بڑی حقارت کے ساتھ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ آدمی ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوانہ اس لیے کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عقل اور ان کے عقیدہ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ پھر صرف آپ کی قوم نے ہی آپ کو مجنون نہیں کہا بلکہ ہر رسول کو دیوانہ کہا جاتا رہا ہے۔ اور یہ دراصل قوم کے اپنے رسولوں کے خلاف معاندانہ رویہ کے اظہار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک نبی اور ایک مجنون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کی دعوت گو معاشرہ کی عقل اور دستور کے خلاف ہوتی ہے۔ تاہم وہ ہمیشہ اپنی ذات پر قائم رہتا، اس پر عمل کر کے دکھاتا اور اپنی پاکیزہ سیرت و کردار سے اپنی بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ جبکہ مجنون ان تینوں باتوں سے عاری ہوتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ہمارے نبی ٔکریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انجام کار آپ کے لیے اور اہل تقویٰ کے لیے متعین کر دیا﴿وَالْعَاقِبَةُ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ﴾ (الأعراف: 128/7)”اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔“ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتیٰ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ و غضب کی بنا پر آپ کو نظر لگا دیں۔یہ تھی اذیت فعلی میں ان کی انتہائے قدرت، اور اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر تھا۔
رہی اذیت قولی تو جو جی میں آتا تھا اس کے مطابق مختلف باتیں کہتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے کبھی کہتے تھے شاعر ہے اور کبھی کہتے تھے جادوگر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ﴾ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم جہان والوں کے لیے نصیحت کے سوا کچھ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں نصیحت حاصل کرتے ہیں … اور ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فامتثل نبيُّنا محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - أمر الله ، فصبر لحكم ربِّه صبراً لا يدركه [فيه] أحدٌ من العالمين، فجعل الله له العاقبة، والعاقبةُ للمتقين، ولم يبلغ أعداؤه فيه إلاَّ ما يسوؤهم، حتى إنَّهم حرصوا على أن يُزْلِقوه {بأبصارهم}؛ أي: يصيبوه بأعينهم من حسدهم وحنقهم وغيظهم. هذا منتهى ما قدروا عليه من الأذى الفعليِّ، والله حافظه وناصِرُه. وأمَّا الأذى القوليُّ؛ فيقولون فيه أقوالاً بحسب ما توحي إليهم قلوبهم، فيقولون تارةً: مجنونٌ! وتارةً: شاعرٌ! وتارة: ساحرٌ! قال تعالى: {وما هو إلا ذكرٌ للعالمين}؛ أي: وما هذا القرآن العظيم والذِّكر الحكيم إلاَّ ذكرٌ للعالمين، يتذكَّرون به مصالح دينهم ودنياهم. والحمد لله.