ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 26

قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾
کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں
En
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ آپ ان سے کہیے کہ اس بات کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے [29] اور میں تو بس ایک صریح ڈرانے والا ہوں
[29] یعنی یہ مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کب آئے گی اور تمہیں اس کی کوئی معین تاریخ معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاؤ جو تمہیں قیامت کو پیش آنے والا ہے۔ اور تمہارے اطمینان کے لیے صرف اتنی ہی بات کافی ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے موت کا آنا یقینی ہے۔ لیکن اس کا معین وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم ہر شخص کو یہ فکر ضرور لاحق ہوتی ہے کہ میں مرنے سے پیشتر فلاں فلاں کام کر جاؤں۔ قیامت کی بھی یہی صورت ہے۔