ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التحريم (66) — آیت 2

قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾
بے شک اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمھارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے ۔ En
خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
En
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ اللہ نے تمہارے لیے (ناجائز) قسموں کو کھول دینا واجب [2] قرار دیا ہے۔ اللہ ہی تمہارا سرپرست ہے اور وہ سب کچھ [3] جاننے والا، حکمت والا ہے۔
[2] قسم کے کفارہ کا تفصیلی ذکر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 89 کے تحت گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ قسم کا کفارہ ادا کر کے اس عہد اور قسم کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کر لینے سے متعلق کیا ہے۔
[3] یعنی اللہ تمہارے تمام معاملات کا نگران اور محافظ ہے اس نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ بھی اپنے علم و حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ اور جو حرام کی ہیں وہ بھی علم و حکمت کی بنا پر ہی حرام کی ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں کسی حکم کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس کے احکام کی اطاعت کرتے جاؤ۔