تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ: ”مَوْلٰي“} کا معنی ہے مالک، دوست، مددگار۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارا مالک، تمھارا مددگار اور تم پر بے حد مہربان ہے، اسی لیے اس نے تمھیں ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہے جو تمھیں مشکل میں مبتلا کر دیں اور اگر قسم کھا کر ایسی کسی مشکل میں پڑ جاؤ تو اس سے نکلنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے، کیونکہ: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [البقرۃ: ۱۸۵] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور وہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے، اس لیے اس کے کسی حکم میں کوئی خطا نہیں، کیونکہ اس کے تمام احکام کامل علم و حکمت پر مبنی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[3] یعنی اللہ تمہارے تمام معاملات کا نگران اور محافظ ہے اس نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ بھی اپنے علم و حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ اور جو حرام کی ہیں وہ بھی علم و حکمت کی بنا پر ہی حرام کی ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں کسی حکم کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس کے احکام کی اطاعت کرتے جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ { سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں }۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ { تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ } [صحیح بخاری:5268]
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے { «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے }، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صحیح مسلم میں ہے کہ { طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا }۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وصار ذلك التحريمُ الصادرُ منه سبباً لشرع حكم عامٍّ لجميع الأمَّة، فقال تعالى: {قد فَرَضَ الله لكم تَحِلَّةَ أيمانِكم}: وهذا عامٌّ في جميع أيمان المؤمنين ؛ أي: قد شرع لكم وقدَّر ما به تَنْحَلُّ أيمانُكم قبل الحِنْثِ وما به تتكفَّر بعد الحنث، وذلك كما في قوله تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تُحَرِّمُوا طيباتِ ما أحلَّ الله لكم ولا تَعْتَدَوا إنَّ الله لا يحبُّ المعتدين ... } إلى أن قال: {فكفَّارتُه إطعامُ عَشَرَةِ مساكين من أوسطِ ما تُطْعِمونَ أهليكم أو كِسْوَتُهم أو تحريرُ رقبةٍ فمن لم يَجِدْ فصيامُ ثلاثةِ أيَّام ذلك كفَّارةُ أيمانِكم إذا حَلَفْتُم}: فكلُّ مَنْ حرَّم حلالاً عليه من طعام أو شرابٍ أو سُرِّيَّة أو حلف يميناً بالله على فعلٍ أو ترك ثم حنثَ وأراد الحِنْثَ؛ فعليه هذه الكفارة المذكورة. وقوله: {واللهُ مولاكم}؛ أي: متولِّي أموركم ومربِّيكم أحسن تربيةٍ في أمر دينكم ودُنياكم وما به يندفعُ عنكم الشرُّ؛ فلذلك فرض لكم تَحِلَّةَ أيمانِكم لتبرأ ذِمَمُكم. {وهو العليم الحكيم}: الذي أحاط علمُه بظواهِرِكم وبواطِنِكم، وهو الحكيم في جميع ما خلقه وحكم به؛ فلذلك شرع لكم من الأحكام ما يعلم أنَّه موافقٌ لمصالحكم ومناسبٌ لأحوالكم.