ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التغابن (64) — آیت 16

فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَ اسۡمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو اور سنو اور حکم مانو اور خرچ کرو، تمھارے اپنے لیے بہتر ہو گا اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیے جائیں سو وہی کامیاب ہیں۔ En
سو جہاں تک ہوسکے خدا سے ڈرو اور (اس کے احکام کو) سنو اور (اس کے) فرمانبردار رہو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور جو شخص طبعیت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں
En
پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راه میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ لہٰذا جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے [24] رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور (اپنے مال) خرچ کرو۔ یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس [25] کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔
[24] مؤاخذہ صرف اس حد تک ہو گا جہاں تک انسان کا اختیار ہے :۔
اس جملہ سے معلوم ہوا کہ انسان گناہوں سے اجتناب اور اوامر کی تکمیل میں اسی حد تک مکلف ہے جس قدر اس کی استطاعت ہے اسی مضمون کو سورۃ بقرہ میں یوں بیان فرمایا: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا [282:2] یعنی جس مقام پر انسان مجبور ہو جائے وہاں اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ مواخذہ صرف اس صورت میں ہے کہ جہاں انسان استطاعت رکھنے کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔ رہی یہ بات کہ انسان اپنے متعلق کوئی غلط اندازہ قائم کر لے۔ مثلاً وہ یہ فرض کر لے کہ فلاں کلام میری استطاعت سے باہر ہے۔ حالانکہ وہ اس کی استطاعت میں ہو۔ تو ایسی بات پر اس کا ضرور مواخذہ ہو گا۔ کیونکہ اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔
[25] اس کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ حشر کی آیت نمبر 9 کا حاشیہ۔