اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے اے میرے رب! تونے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا۔
En
اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں
En
10۔ اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے۔ اس میں سے وہ وقت آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کو موت آئے تو کہنے لگے: اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تھوڑی مدت اور کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کر لیتا [15] اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا
[15] افضل ترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات کے علی الرغم کیا جائے :۔
بخل یا شحّ اور ایمان دو متضاد چیزیں ہیں۔ جو ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ بخل دراصل نفاق کی علامت ہے ایمان کی نہیں۔ بخیل آدمی ساری عمر پیسہ جوڑنے میں گزار دیتا ہے۔ کسی وقت بھی مال کی محبت اس کے دل سے جدا نہیں ہوتی بلکہ بڑھاپے میں اور زیادہ بڑھنے لگتی ہے۔ پھر جب موت سر پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب مجھے یہ مال و دولت چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اس وقت البتہ اس کا جی چاہتا ہے کہ صدقہ کر کے اپنے مال سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اٹھا لوں۔ اس وقت بھی اس کا اصل مقصد کسی محتاج کی احتیاج دور کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ ”بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی“ کے مصداق وہ جبراً جدا ہونے والے مال سے صدقہ کر کے ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت صدقہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجر کے لحاظ سے کون سا صدقہ بڑا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور دولت کی امید رکھتا ہو لہٰذا صدقہ کرنے میں جلدی کر۔ ایسا نہ ہو کہ جان لبوں پر آجائے تو کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دو۔ اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اس وقت یہ مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہوتا ہے“ [مسلم۔ كتاب الزكوٰة۔ باب ان افضل الصدقة۔۔] ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں صدقات کو خصوصی اہمیت ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔