تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ …:} یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بے کار ہے، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیار کرے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۴) اور سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔
➌ {فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:” فَاَصَّدَّقَ “} اصل میں {”فَأَتَصَدَّقُ“} ہے، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ{” لَوْ لَاۤ “} کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فاء“ آ رہی ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہے اور {” اَكُنْ “} مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطف جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فاء“ نہیں آ رہی، گویا اصل کلام اس طرح ہے: {”رَبِّ أَخِّرْنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِيْبٍ فَإِنْ أَخَّرْتَنِيْ أَتَصَدَّقْ وَ أَكُنْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ۔“}
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں صدقات کو خصوصی اہمیت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]
ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع]
اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وأنفقوا ممَّا رَزَقْنَاكُم}: يدخلُ في هذه النفقات الواجبة من الزكاة والكفارات ، ونفقة الزوجات والمماليك، ونحو ذلك، والنفقات المستحبَّة؛ كبذل المال في جميع المصالح، وقال: {ممَّا رَزَقْناكم}: ليدلَّ ذلك على أنَّه تعالى لم يكلِّف العباد من النفقة ما يُعْنِتُهُمْ ويشقُّ عليهم، بل أمرهم بإخراج جزءٍ ممَّا رزقهم ويسَّره ويسَّر أسبابه، فليشكروا الذي أعطاهم بمواساة إخوانهم المحتاجين، وليبادروا بذلك، الموت الذي إذا جاء؛ لم يمكن العبد أن يأتي بمثقال ذرَّة من الخير، ولهذا قال: {من قبل أن يأتيَ أحدَكم الموتُ فيقولَ}: متحسراً على ما فَرَّطَ في وقت الإمكان، سائلاً الرجعةَ التي هي محالٌ: {ربِّ لولا أخَّرْتَني إلى أجل قريبٍ}؛ أي: لأتدارك ما فرَّطتُ فيه، {فأصَّدَّقَ}: من مالي ما به أنجو من العذاب، وأستحقُّ [به] جزيل الثواب، {وأكن من الصالحين}: بأداء المأموراتِ كلِّها واجتناب المنهيَّات، ويدخل في هذا الحجُّ وغيره.