بے شک اللہ دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے، وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے، یہی اللہ ہے، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔
En
بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
بےشک اللہ تعالیٰ دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے واﻻ ہے، وه جاندار کو بے جان سے نکال ﻻتا ہے اور وه بے جان کو جاندار سے نکالنے واﻻ ہے اللہ تعالیٰ یہ ہے، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو
En
95۔ بلا شبہ اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ [97۔ 1] وہ مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو [98] نکالنے والا ہے یہ کام تو اللہ کرتا ہے پھر تم کہاں سے بہکائے جاتے ہو؟
[97۔ 1]
نباتات کی روئیدگی میں اللہ کی قدرتیں:۔
یہ اللہ تعالیٰ کے خالق و مالک اور قادر مطلق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ ہر قسم کے غلوں کے دانوں یا بیج کو اور ہر قسم کے پھلوں کی گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے غلہ کے بیج یا پھل کی گٹھلی کو جب زمین میں دبا دیا جاتا ہے پھر جب اس زمین کو سیراب کیا جاتا ہے تو یہ بیج یا گٹھلی پھٹ کر دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور دو شاخیں نکلتی ہیں۔ ایک شاخ تو زمین کے اندر جڑ کی صورت میں نیچے کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور دوسری شاخ کونپل بن کر زمین کو پھاڑ کر اس سے باہر نکل آتی ہے پھر اسی سے برگ و بار اور پھل پھول نکلنے شروع ہو جاتے ہیں اور اس بات کے باوجود کہ تخم ایک ہوتا ہے۔ زمین ایک، پانی ایک اور طبیعت ایک مگر زمین سے باہر نکلنے والی شاخ کے اثرات زمین کے اندر جانے والی شاخ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور باہر نکلنے والی شاخ کے آثار بھی کئی طرح کے ہیں۔ پتوں کی شکل اور ہے پھولوں کی اور پھلوں کی اور اور ہر بیج یا گٹھلی اسی پودے کے برگ و بار پیدا کرتا ہے جس کا وہ بیج یا گٹھلی ہوتی ہے یہ سب باتیں اللہ کی قدرت کی کمال کاریگری پر دلالت کرتی ہیں۔
[98] اُخروی زندگی پر دلیل:۔
یہ اللہ کے خالق و مالک اور قادر مطلق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ وہ زندہ چیز سے مردہ اور مردہ چیز سے زندہ چیز پیدا کرتا ہے کوئی انسان یا کوئی دوسری مخلوق یہ دونوں کام نہیں کر سکتی۔ پھر جب صورت حال یہ ہے تو دوسرے اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک کیسے بن جاتے ہیں۔ پھر مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرنے کی بھی کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا جو بے جان چیز ہے پھر اس کی تمام ضروریات اسی مٹی یا زمین سے وابستہ کر دیں۔ پھر یہ زندہ انسان مرنے کے بعد اسی مردہ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اسی حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے معاد پر استدلال فرمایا ہے مثلاً زمین سے پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں زندگی کے آثار موجود ہوتے ہیں پھر یہی چیزیں زمین میں مل کر پھر مردہ بن جاتی ہیں۔ یا مثلاً مرغی سے انڈا پیدا ہوتا ہے پھر انڈا سے مرغی پیدا ہوتی ہے گویا زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا ہونے کی بے شمار مثالیں اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ سب کام ایسے ہیں جو کسی انسان یا کسی دوسری ہستی کے بس کا روگ نہیں۔ اسی پر اخروی زندگی کو قیاس کیا جا سکتا ہے اور یہ سمجھنے میں کچھ دقت پیش نہیں آتی کہ انسان کے جسم کا مٹی میں مل کر مٹی بن جانے کے بعد اللہ اسے مٹی سے ہی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔