اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔
En
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسی کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ﻇلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے
En
52۔ اور جو لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور صبح و شام اپنے [55] پروردگار کو پکارتے ہیں انہیں اپنے ہاں سے دور نہ کیجئے۔ ان کے حساب سے آپ کے ذمہ کچھ نہیں اور نہ آپ کے حساب سے کچھ ان کے ذمہ ہے۔ لہذا اگر آپ انہیں دور ہٹائیں گے تو بے انصافوں میں شمار ہوں گے
[55] قریشی سرداروں کا ناتواں صحابہ کو اپنے ہاں سے اٹھانے کا مطالبہ:۔
بعض معززین قریش، جن میں سے اقرع اور عیینہ کا بالخصوص ذکر آیا ہے، آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا آپ کی مجلس میں آنے کو جی تو چاہتا ہے مگر آپ کے گرد یہ کچھ حقیر قسم کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہم جھجک محسوس کرتے ہیں۔ البتہ اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آنے کو تیار ہیں آپ چونکہ ان بڑے بڑے قریشیوں کے ایمان لانے پر بڑے حریص تھے لہٰذا دل میں کوئی ایسی ترکیب سوچ ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کریں۔“ وہ چھ آدمی یہ تھے۔ میں خود، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ہذیل کا ایک آدمی، بلال رضی اللہ عنہ اور دو آدمی جن کا میں نام نہیں لیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا، خیال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب فى فضل سعد بن ابي وقاص] اور ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ چھ آدمی درج ذیل تھے: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، صہیب رومی رضی اللہ عنہ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہ (حبشی) اقرع اور عیینہ نے تنہائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ہم آپ کے پاس آئیں تو انہیں اٹھا دیا کیجئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا صحابہ کی بہت تعریف بیان فرمائی اور فرما دیا کہ ان کو ہٹانے کی بات ہرگز نہ سوچئے۔ یہ انتہائی بے انصافی ہے کہ سچے مومنوں کو اس طمع سے اٹھایا جائے کہ دوسرے لوگ آکر بیٹھیں جن کا ایمان لانا بھی یقینی نہ ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں