ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 52

وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾
اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔ En
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
En
اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسی کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ﻇلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52)➊ {وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ …:} سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے کہا، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں، تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کر سکیں۔ ان لوگوں میں میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی اور دو اور جن کا میں نام نہیں لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ نے جو چاہا خیال آیا، آپ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی: «وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [مسلم، الفضائل، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ: ۴۶؍۲۴۱۳] یعنی اللہ کے طالب اگرچہ غریب ہیں انھی کی خاطر داری مقدم ہے۔ (موضح)
➋ {مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ …:} یعنی نہ ان کا حساب آپ کے ذمے ہے، نہ آپ کا ان کے ذمے، تو ان کا کیا قصور ہے کہ آپ انھیں اپنے سے دور کریں، جس کے نتیجے میں آپ ظالم ٹھہریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 یعنی یہ بےسہارا اور غریب مسلمان، جو بڑے اخلاص سے رات دن اپنے رب کو پکارتے ہیں یعنی اس کی عبادت کرتے ہیں، آپ مشرکیں کے اس طعن یا مطالبہ سے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ارد گرد تو غربا و فقرا کا ہی ہجوم رہتا ہے ذرا انھیں ہٹاؤ تو ہم بھی تمہارے پاس بیٹھیں، ان غربا کو اپنے سے دور نہ کرنا، بالخصوص جب کہ آپ کا کوئی احسان ان کے متعلق نہیں اور اگر ایسا کریں گے تو یہ ظلم ہوگا جو آپ کی شایان شان نہیں۔ مقصد امت کو سمجھانا ہے کہ بےوسائل لوگوں کو حقیر سمجھنا یا ان کی صحبت سے گریز کرنا اور وابستگی نہ رکھنا، یہ نادانوں کا کام ہے۔ اہل ایمان کا نہیں۔ اہل ایمان تو اہل ایمان سے محبت رکھتے ہیں چاہے وہ غریب اور مسکین ہی کیوں نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ اور جو لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور صبح و شام اپنے [55] پروردگار کو پکارتے ہیں انہیں اپنے ہاں سے دور نہ کیجئے۔ ان کے حساب سے آپ کے ذمہ کچھ نہیں اور نہ آپ کے حساب سے کچھ ان کے ذمہ ہے۔ لہذا اگر آپ انہیں دور ہٹائیں گے تو بے انصافوں میں شمار ہوں گے
[55] قریشی سرداروں کا ناتواں صحابہ کو اپنے ہاں سے اٹھانے کا مطالبہ:۔
بعض معززین قریش، جن میں سے اقرع اور عیینہ کا بالخصوص ذکر آیا ہے، آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا آپ کی مجلس میں آنے کو جی تو چاہتا ہے مگر آپ کے گرد یہ کچھ حقیر قسم کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہم جھجک محسوس کرتے ہیں۔ البتہ اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آنے کو تیار ہیں آپ چونکہ ان بڑے بڑے قریشیوں کے ایمان لانے پر بڑے حریص تھے لہٰذا دل میں کوئی ایسی ترکیب سوچ ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کریں۔“ وہ چھ آدمی یہ تھے۔ میں خود، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ہذیل کا ایک آدمی، بلال رضی اللہ عنہ اور دو آدمی جن کا میں نام نہیں لیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا، خیال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب فى فضل سعد بن ابي وقاص] اور ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ چھ آدمی درج ذیل تھے: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، صہیب رومی رضی اللہ عنہ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہ (حبشی) اقرع اور عیینہ نے تنہائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ہم آپ کے پاس آئیں تو انہیں اٹھا دیا کیجئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا صحابہ کی بہت تعریف بیان فرمائی اور فرما دیا کہ ان کو ہٹانے کی بات ہرگز نہ سوچئے۔ یہ انتہائی بے انصافی ہے کہ سچے مومنوں کو اس طمع سے اٹھایا جائے کہ دوسرے لوگ آکر بیٹھیں جن کا ایمان لانا بھی یقینی نہ ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آیات ۵۲-۵۳
پھر فرماتا ہے ’ یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» ۱؎ [18-الكهف:28]‏‏‏‏ یعنی ’ انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں ‘۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40۔ غافر:60]‏‏‏‏ ’ تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر ‘۔
جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ علیہ السلام نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا۔
مسند احمد میں ہے کہ { قریش کے بڑے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں صہیب رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:51]‏‏‏‏ سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53]‏‏‏‏ تک اتری }۔ ۱؎ [مسند احمد:420/1:حسن]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے کہ { ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے زر، بے سہارا لوگ ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں، دیکھئے حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں، آیت «‏‏‏‏وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:51]‏‏‏‏ سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53]‏‏‏‏ تک نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13258:]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے { قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بے حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کے وفد آیا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا، ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت «‏‏‏‏وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:51]‏‏‏‏ سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:53]‏‏‏‏ تک نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7331/4:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ آیت مکی ہے اور اقرع اور عیینہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں۔
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { یہ آیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چھ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھتے تاکہ پور طرح شروع سے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی۔ اس کے برخلاف آیت اتری }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2413]‏‏‏‏۔
پھر فرماتا ہے ’ اس طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امراء ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں اللہ کو یہی لوگ پسند آئے؟‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰؔوةِ وَالْ٘عَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں۔
﴿مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انھیں اپنے قریب کرتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔
ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمھاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو۔ کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بھی یہ خیال آیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور ان جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تطردِ الذين يدعون ربَّهم بالغداة والعشي يريدون وجهه}؛ أي: لا تطرد عنك وعن مجالستك أهل العبادة والإخلاص رغبةً في مجالسة غيرهم، من الملازمين لدعاءِ ربِّهم دعاء العبادة بالذِّكر والصلاة ونحوها ودعاء المسألة في أول النهار وآخره، وهم قاصدون بذلك وجه الله، ليس لهم من الأغراض سوى ذلك الغرض الجليل؛ فهؤلاء ليسوا مستحقين للطرد والإعراض عنهم، بل هم مستحقُّون لموالاتهم ومحبتهم وإدنائهم وتقريبهم؛ لأنهم الصفوة من الخلق ـ وإن كانوا فقراء ـ الأعزاء في الحقيقة، وإن كانوا عند الناس أذلاء. {ما عليك من حسابِهِم من شيءٍ وما من حسابِكَ عليهم من شيءٍ}؛ أي: كلٌّ له حسابُهُ وله عملُهُ الحسنُ وعملُهُ القبيحُ، {فتطرُدَهم فتكونَ من الظالمين}: وقد امتثلَ - صلى الله عليه وسلم - هذا الأمر أشدَّ امتثال، فكان إذا جلس الفقراء من المؤمنين؛ صبَّر نفسه معهم، وأحسن معاملتهم، وألان لهم جانبه، وحسَّن خلقه، وقرَّبهم منه، بل كانوا هم أكثر أهل مجلسِهِ رضي الله عنهم.

وكان سبب نزول هذه الآيات أن أناساً من قريش أو من أجلاف العرب قالوا للنبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: إن أردتَ أن نؤمنَ لك ونتَّبِعَكَ؛ فاطردْ فلاناً وفلاناً ـ أناساً من فقراء الصحابة ـ؛ فإنا نستحي أن ترانا العرب جالسين مع هؤلاء الفقراء. فحَمَلَهُ حبُّه لإسلامهم واتِّباعهم له فحدَّثته نفسُه بذلك، فعاتبه الله بهذه الآيات ونحوها.