ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانعام (6) — آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکۡمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ؕ مَنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضۡلِلۡہُ ؕ وَ مَنۡ یَّشَاۡ یَجۡعَلۡہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۹﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں، جسے اللہ چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔ En
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے
En
اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وه تو طرح طرح کی ﻇلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں، اللہ جس کو چاہے بے راه کردے اور وه جس کو چاہے سیدھی راه پر لگا دے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں جو اندھیروں [45] میں ہیں (کہ حق کو دیکھ بھی نہیں سکتے) اللہ جسے چاہے اسے گمراہ کرتا ہے اور جس کے متعلق چاہتا ہے اسے راہ راست پر لگا دیتا ہے
[45] جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گوں گا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گوں گا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہو گا تو کیا ہو گا؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔