اور اس میں سے مت کھائو جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور بلاشبہ یہ یقینا سرا سر نا فرمانی ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ضرور باتیں ڈالتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہنا مان لیا تو بلاشبہ تم یقینا مشرک ہو۔
En
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے
En
121۔ اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اسے [126] مت کھاؤ کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔ بلا شبہ شیطان تو اپنے دوستوں کے دلوں میں (شکوک و اعتراضات) القاء کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے [127] جھگڑتے رہیں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم بھی مشرک [128] ہی ہوئے
[126] جس چیز پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے وہ قرآن کی متعدد آیات کی تصریح کے مطابق حرام ہے اور جس پر عمداً اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ اس آیت کی رو سے حرام ہے اور اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے۔ نیز اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمارے پاس لوگ گوشت بیچنے آجاتے ہیں۔ وہ نیا نیا اسلام لائے ہیں۔ معلوم نہیں انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں لیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم خود بسم اللہ پڑھ لیا کرو اور اسے کھا لیا کرو۔“ [بخاري۔ كتاب الذبائح والصيد والتسميه۔ باب ذبيحه الاعراب و نحوهم] نیز دیکھئے اسی سورۃ کی آیت نمبر 138 کا حاشیہ۔ [127] عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ”کیا جس چیز کو ہم خود ماریں (ذبح کریں) اسے تو کھا لیں اور جسے اللہ مارے (یعنی مر جائے) اسے نہ کھائیں؟“ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي، ابواب التفسير]
[128] حلت و حرمت کا اختیار صرف اللہ کو ہے:۔
یعنی شرک صرف یہی نہیں کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی پرستش کی جائے یا اسے حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا جائے یا اس کے نام کی قربانی یا نذر و نیاز دی جائے بلکہ اللہ کے سوا کسی کے حلال بتائے ہوئے کو حلال اور حرام بتائے ہوئے کو حرام سمجھنا بھی شرک ہی ہوتا ہے کیونکہ حلال و حرام ٹھہرانے کے جملہ اختیارات صرف اللہ کو ہیں چنانچہ جب یہ آیت ﴿اِتَّخَذُوْٓااَحْبَارَهُمْوَرُهْبَانَهُمْاَرْبَابًامِّنْدُوْنِاللّٰهِوَالْمَسِيْحَابْنَمَرْيَمَ ۚ وَمَآاُمِرُوْٓااِلَّالِيَعْبُدُوْٓااِلٰهًاوَّاحِدًا ۚ لَآاِلٰهَاِلَّاهُوَۭسُبْحٰنَهٗعَمَّايُشْرِكُوْنَ﴾ نازل ہوئی تو عدی بن حاتم (جو پہلے عیسائی تھے) کہنے لگے ”یا رسول اللہ! ہم لوگ اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا جس چیز کو وہ حلال کہتے یا حرام کہتے تو تم ان کی بات مان لیتے تھے؟ عدی کہنے لگے: ہاں! یہ تو تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس یہی رب بنانا ہے۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير] اس آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ وہ یہودیوں کی اس طرح کی گمراہ کن اور شرک میں مبتلا کرنے والی چالوں میں نہ آئیں اور اگر انہوں نے یہود کا کہنا مان لیا تو وہ بھی مشرک ہی بن جائیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔