وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے
En
24۔ وہ اللہ ہی ہے جو پیدا [39] کرنے والا ہے۔ سب کا موجد [40] اور صورتیں عطا کرنے والا [41] ہے۔ اس کے سب نام اچھے [42] ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوقات ہیں سب اسی کی تسبیح کر رہی ہیں اور وہ زبردست ہیں، حکمت والا ہے۔
[39]﴿الخَالِق﴾﴿خلق﴾ کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) کسی چیز کو بنانے کے لیے اس کا اندازہ لگانا یا خاکہ تیار کرنا۔ گویا تخلیق کا کام ذہنی بھی ہو سکتا ہے اور اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ (2) کبھی یہ لفظ ابداع کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ یعنی پہلی بار بنانا اور کسی نمونہ کے یا کسی تقلید کے بغیر بنانا۔ انوکھی چیز بنانا' قرآن کریم میں جیسے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿خَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالاَرْضَ﴾ ہے ویسے ہی ﴿بَدِيْعُالسَّمٰوٰتِوَالاَرْضِ﴾ بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف نہیں ہو سکتی۔ (3) اور خلق کا عام مفہوم یہ ہے کہ ایک چیز سے دوسری چیز بنائی جائے۔ پہلے مادہ موجود ہو تو اس سے کوئی دوسری چیز بنائی جائے۔ اس صورت میں بھی اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو سکتی ہے۔ اور اس لحاظ سے اللہ خالق ہی نہیں بلکہ احسن الخالقین ہے۔ [40]﴿البَارِيُ﴾﴿برأ﴾ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، جامہ خلقت پہنانا، کسی چیز کا مادہ بھی وجود میں لانا پھر اس سے تخلیق کرنا یا بغیر مادہ کے تخلیق کرنا اور یہ صفت صرف اللہ کی ہے۔ دوسرا کوئی باری نہیں ہو سکتا۔ [41]﴿المُصَوِّرُ﴾ بمعنی صورت بنانے والا۔ تصویر بنانے والا۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ رحم مادر میں نطفہ اور مضغہ پر نقش و نگار بناتا ہے کسی کے نقوش تیکھے، کسی کے بھدے، کسی کی آنکھیں موٹی، کسی کی چھوٹی، کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا۔ دوسرا پہلو یہ کہ ہر جاندار کی شکل و صورت الگ الگ ہے۔ انسان کی صورت الگ ہے، گھوڑے کی الگ، شیر کی الگ، بکری کی الگ، وغیرہ وغیرہ، تیسرا پہلو نباتات اور مختلف قسم کے پھولوں کی شکل و صورت ہے۔ غرضیکہ ہر چیز کو اللہ نے ایک صورت عطا فرمائی اور وہ بڑی اچھی صورت بنانے والا ہے۔ [42] اللہ کے ماسوائے اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں۔ اور چونکہ اللہ کی سب صفات بہترین ہیں۔ لہٰذا اس کے سب نام بھی اچھے ہیں۔ جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ عیب اور نقص والی کوئی صفت اس میں ہے ہی نہیں۔ احادیث صحیحہ کے مطابق ان ناموں کی تعداد ننانوے ہے۔ ان کو حفظ کرنا اور صبح و شام ان کو پڑھنا باعث خیر و برکت ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔