ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحشر (59) — آیت 18

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ En
اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
En
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل [24] کے لئے کیا سامان کیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ یقیناً اس سے پوری طرح با خبر ہے۔
[24] ہر شخص کو آخرت کا دھیان رکھنا چاہئے :۔
کل سے مراد قیامت کا دن یا اخروی زندگی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اس کی دنیا کی پوری زندگی ”آج“ ہے۔ دنیا دار العمل ہے جس کا پھل اسے عقبیٰ میں یا آخرت میں ملے گا، جو کچھ بوئے گا، وہی کچھ کاٹے گا اور جتنا بوئے گا اتنا ہی کاٹے گا۔ ان اصولوں کے تحت ہر انسان کو خود اپنا محتسب بنایا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر خود نظر رکھے۔ اسے سیدھے اور غلط راستے، نیکی اور بدی، اچھے اور برے کی تمیز بھی عطا کر دی گئی ہے اور پوری وضاحت کے ساتھ سب کچھ بتا بھی دیا گیا ہے۔ اب یہ اس کا اپنا کام ہے کہ خود دیکھتا رہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے۔ وہ اسے جہنم کی طرف لے جا رہی ہو؟ اور سورۃ قیامۃ میں فرمایا کہ انسان کو اتنی سمجھ دے دی گئی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کر سکے۔ اگر وہ اپنے حق میں مصالحت اور بہانہ تراشیاں چھوڑ دے تو وہ اپنے اعمال کا وزن کر سکتا ہے۔ اور اسے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اس لیے کہ اگر وہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے گا تو سیدھے راستے سے چوکے گا نہیں۔ اور نہ ہی اللہ کی نافرمانی کے کام کرے گا۔ دوسری بات جو اسے ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے یہ ہے کہ اس کا مال و دولت، اس کی تندرستی، اس کی استعداد اور اس کی سرگرمیاں آیا دنیا کے حصول تک ہی ختم ہو کر رہ جاتی ہیں یا وہ آخرت کے لیے کچھ سامان مہیا کر رہا ہے۔ یہ احتساب خود اسے ایسی باتوں پر آمادہ کر دے گا جو آخرت میں اس کے لیے سود مند ہوں۔