ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحشر (59) — آیت 13

لَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ رَہۡبَۃً فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۳﴾
بلا شبہ تم ان کے سینوں میں خوف کے اعتبار سے اللہ سے زیادہ سخت ہو، یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ En
(مسلمانو!) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے
En
(مسلمانو! یقین مانو) کہ تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیاده ہے، یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ ان کے دلوں میں اللہ کے خوف سے زیادہ تمہاری دہشت [17] ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ سمجھ بوجھ نہیں [18] رکھتے۔
[17] یعنی منافقوں کا بنو نضیر سے اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ سے ڈر گئے ہیں۔ یا انہیں اپنے دعویٰ اسلام کا کچھ پاس ہونے لگا ہے۔ یا انہیں یہ خطرہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں کافروں کی حمایت کے جرم کی پاداش میں سزا ملے گی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہارے جیسے سچے مسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق اور اللہ کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگا دینے سے وہ کچھ اس طرح مرعوب ہو چکے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہو چکا ہے کہ اگر وہ یہودیوں کی حمایت میں لڑنے کو نکلے تو یہودیوں کے ساتھ یہ خود بھی پس جائیں گے۔
[18] اصل سوجھ بوجھ یہ ہے کہ صرف اللہ سے ڈرا جائے اللہ کے مقابلے میں اور کسی سے نہ ڈرا جائے۔ مگر یہ لوگ بس ایک اللہ سے نہیں ڈرتے۔ باقی سب طرح کے خطرات ان کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ لہٰذا جس طرف انہیں اپنے بچاؤ کی صورت نظر آتی ہے۔ اپنے تمام وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ادھر ہی اپنا رخ موڑ لیتے ہیں۔