کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں سر گوشی کرنے سے منع کیا گیا، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا اور آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے ، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے، سو وه برا ٹھکانا ہے
En
8۔ کیا آپ نے ان لوگوں [9] کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے روکا گیا تھا پھر وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا تھا۔ یہ لوگ چھپ چھپ کر گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق باتیں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے طریقے سے سلام کہتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔ اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ”جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا“ ایسے لوگوں کو جہنم کافی ہے۔ جس میں یہ داخل ہوں گے۔ سو ان کا انجام کیسا برا ہے۔
[9] منافقوں کی سرگوشیاں :۔
ان لوگوں سے مراد مدینہ کے منافق ہیں۔ جو اپنے بعض معاملات کی خاطر مسلمان تو ہو گئے تھے۔ مگر ان کی سب ہمدردیاں کافروں کے ساتھ تھیں چاہے وہ یہود مدینہ ہوں یا قریش مکہ ہوں یا دوسرے عرب قبائل ہوں جو مشرک اور اسلام کے دشمن تھے۔ ان کی کئی قسم کی حرکات قابل گرفت تھیں جن سے مسلمانوں کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ ایک یہ کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں سے خفیہ روابط رکھتے تھے اور مسلمانوں کی نقل و حرکت یا ارادوں سے انہیں باخبر رکھتے تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کی قوت کو کمزور کرنے کے لیے آپس میں خفیہ مجلسیں کرتے تھے۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جہاں چند مسلمانوں کو دیکھا تو آپس میں کھسر پھسر اور کانا پھوسی ان کے سامنے ہی شروع کر دی۔ اور اس کا مقصد محض مسلمانوں کو ذہنی کوفت پہنچانا ہوتا تھا۔ اور تیسرا کام وہ یہ کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو کسی مشورہ یا کام کے لیے بلاتے اور ایسی مجالس میں مسلمان کہلانے کے ناطے سے منافقوں کو بھی بادل ناخواستہ آنا پڑتا تھا۔ اس وقت وہ آپ کو زیر لب وہی سلام کہتے جو انہوں نے یہودیوں سے سیکھا تھا یعنی السلام علیک کے بجائے السام علیک کہا کرتے (یعنی تم پر موت آئے) جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
یہود اور منافقین کا آپ کو السام علیک کہنا :۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہودی تمہیں سلام کہتے ہیں تو سلام کے بجائے سام (یعنی موت) کہتے ہیں۔ تو ان کے جواب میں تم فقط وعلیک کہہ دیا کرو (اور تم پر بھی)“ [بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف یرد علٰی اھل الذمۃ السلام] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چند یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا السام علیک۔ میں سمجھ گئی اور کہا علیکم السام واللعنۃ (یعنی تم پر موت بھی آئے اور لعنت بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ذرا ٹھہرو! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سن کر ہی انہیں وعلیکم کہا تھا۔“ [بخاري۔ كتاب الاستيذان۔ باب ايضاً] پھر دل میں یہ بھی سوچتے یا آپس میں تبادلہ خیالات کرتے کہ اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے حق میں ہماری اس بد دعا کی پاداش میں ہم پر تباہی آچکی ہوتی۔ مگر چونکہ ہماری بد دعا کے باوجود ہمارا آج تک کچھ بھی نہیں بگڑا تو ہم یہ کیسے سمجھیں کہ یہ واقعی سچا رسول ہے۔ اللہ نے منافقوں کی ان سب کارروائیوں سے مسلمانوں کو مطلع کر دیا اور ان کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ لیکن تباہی نازل نہیں کی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبری اور اضطراری ایمان کے لیے پیدا نہیں کیا۔ البتہ انہیں مرنے کے بعد ان کے برے انجام سے مطلع فرمایا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔