یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
En
(اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے واﻻ ہے
En
1۔ اللہ نے یقیناً اس عورت کی بات سن لی [1] ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں (اے نبی) آپ سے جھگڑ رہی ہے اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ بلا شبہ اللہ سب کچھ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے
[1] ظہار کے احکام کا پس منظر :۔
جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب میاں بیوی میں لڑائی ہو جاتی تو خاوند غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو یوں کہہ دیتا کہ: ﴿أنْتِعَلَيَّكَظَهْرِأمِّي﴾ یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ تو اسے دائمی طلاق سمجھا جاتا تھا۔ یہ صرف معمولی طلاق ہی نہ تھی بلکہ شدید قسم کی طلاق سمجھی جاتی تھی۔ جس کے بعد ان دونوں میاں بیوی کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی تھی۔ اس بے ہودہ رسم کے متعلق پہلے سورۃ احزاب کی آیت نمبر 4 میں مسلمانوں کو یہ تو بتایا جا چکا تھا کہ کسی کے ظہار کرنے یعنی اپنی بیوی کو ماں کی پیٹھ کی طرح کہہ دینے سے وہ اس کی ماں نہیں بن جاتی اور نہ ہی اللہ نے کوئی ایسا قانون بنایا ہے۔ مگر اس شرعی حکم کی کچھ تفصیل نہیں دی گئی تھی۔ اب یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک انصاری اوس بن صامت اور اس کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ میں لڑائی جھگڑا ہوا تو اوس بن صامت نے غصہ میں آکر یہی ظہار کے الفاظ کہہ دیئے۔ جس کا فریقین میں معروف مفہوم ابدی طلاق تھا۔ بعد میں زوجین کو سخت ندامت بھی ہوئی اور چونکہ اولاد بھی تھی لہٰذا اس اولاد کے مستقبل نے کئی خطرات سامنے لا کھڑے کئے۔ خولہ بنت ثعلبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور اس کا حکم پوچھا۔ لیکن چونکہ تاحال ظہار کا کوئی واضح حکم نازل نہ ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو گئی۔ اس پر خولہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگی: یا رسول اللہ! میرے خاوند نے طلاق کا لفظ تو نہیں بولا تھا۔ میں نے جوانی تو اس کے ہاں گزار دی۔ اب بڑھاپا کس کے پاس گزاروں گی۔ نیز میری اوس سے اولاد بھی ہے۔ اگر میں اس سے دستبردار ہو جاؤں تو اولاد بے توجہی کی نذر ہو جائے گی اور اگر اپنے پاس رکھوں تو ان کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وہ ساتھ ہی ساتھ روتی بھی جاتی تھی اور یہ کہتی بھی جاتی تھی کہ مجھے کوئی بہتر صورت بتائیے۔ اور یہ بھی کہ اللہ میرے حق میں کوئی بہتر فیصلہ نازل فرمائے۔ اللہ نے اس کی فریاد سن لی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں۔ یہ اسی خستہ حالی میں واپس جا رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بلا کر یہ آیات سنا دیں۔ جن میں صرف اسی کے مسئلہ کا حل موجود نہ تھا۔ بلکہ اس عورت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لیے اس بد رسم کو مٹا کر تمام بنی نوع انسان پر رحمت فرما دی۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں اس عورت کی بہت قدر و منزلت ہو گئی۔ ایک دفعہ سیدنا عمر اپنے دور خلافت میں کہیں جا رہے تھے کہ خولہ مذکورہ نے راستہ ہی میں آپ کو بلایا اور کچھ بات کہنے لگی۔ سیدنا عمرؓ کھڑے ہو کر بڑی توجہ سے سننے لگے۔ کسی نے پوچھا کیا بات ہے آپ اس بڑھیا کی بات بڑی توجہ سے سن کر اسے اتنی اہمیت دے رہے ہیں؟ سیدنا عمر نے فرمایا:”یہ وہ عورت ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سن لی تھی۔ عمر کی کیا مجال ہے کہ اس کی بات کی طرف توجہ نہ دے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔