بلا شبہ یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی( کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔
En
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے، بیشک اللہ قوت واﻻ اور زبردست ہے
En
25۔ بلا شبہ ہم نے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا (بھی) [42] نازل کیا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ اسے دیکھے بغیر کون اس کی [43] اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔
[42] فتنہ و فساد کی روک تھام، دین کے غلبہ اور نظام عدل کے قیام کے لئے تین چیزوں کی ضرورت قوانین الٰہیہ میزان اور قوت نافذہ: دنیا میں فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس آیت میں بیان کر دی گئی ہیں۔ واضح نشانیوں سے مراد ایسے دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہو جائے کہ واقعی یہ رسول برحق اور اس پر نازل شدہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور واضح نشانات بھی اسی کتاب میں مذکور و موجود ہیں۔ یعنی اس کتاب میں پرامن زندگی، فتنہ و فساد کی روک تھام اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے قوانین بیان کیے ہیں۔ میزان سے مراد ناپ تول کے پیمانے بھی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق پورے پورے ادا کیے جا سکیں اور نظام عدل کو قائم کرنے کے تقاضے اور ہدایات بھی جو کتاب و سنت میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ اور لوہا سے مراد ڈنڈا یا طاقت اور قوت نافذہ بھی ہے جو عدالتوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو لوگ لاتوں کے بھوت ہوں وہ باتوں سے کبھی نہیں مانتے اور جنگی یا سیاسی قوت اور سامان جنگ بھی جو بالعموم لوہے سے ہی تیار کیا جاتا ہے جیسے توپ و تفنگ، تیر، تلوار، میزائل، بندوقیں، رائفلیں، اور کلاشنکوفیں وغیرہ۔ تاکہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے جو اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہوں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے لوہا سے مراد اسلحہ اور جنگی قوت لینا ہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ تینوں چیزیں ہر رسول کو عطا کی گئیں جو کہ نظام عدل کے قیام اور اللہ کے دین کے نفاذ اور فتنہ و فساد کے قلع قمع کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ [43] لوہا اگرچہ زمین کے اندر کانوں سے نکلتا ہے۔ تاہم اسے نازل کرنے سے تعبیر کیا جیسا کہ میزان کو نازل کرنے سے تعبیر کیا۔ اس سے مراد ان چیزوں کو پیدا کرنا اور وجود میں لانا اور اجمالاً تمام اشیاء ہی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ اور لوہے یا جنگی قوت کے استعمال کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے فتنہ و فساد کو روکا جا سکتا ہے۔ اور ضمنی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں چیزوں کے حصول اور استعمال سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کون اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر پیش قدمی کرتا ہے اور کون اس سے پہلو تہی کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تو اتنا طاقتور اور غالب ہے کہ وہ اور بھی کئی طریقوں سے اپنا دین نافذ کر سکتا ہے۔ مگر جہاد سے اصل مقصود تو لوگوں کا امتحان ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔