ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الواقعة (56) — آیت 81

اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
پھر کیا اس کلام سے تم بے توجہی کرنے والے ہو؟ En
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
En
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ پھر کیا اس کلام سے [38] تم مداہنت کر رہے ہو
[38] ﴿مُدْهِنُوْنَ ﴿دُهْنٌ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور ﴿اَدْهَنَ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کر لینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔