ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 14

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ En
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
En
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اس نے انسان کو ٹھیکری [12] کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔
[12] سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل :۔
یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔
(1) ﴿تراب﴾ بمعنی خشک مٹی سے [المومن: 67]
(2) ﴿ارض﴾ بمعنی عام مٹی یا زمین [نوح: 17]
(3) ﴿طين﴾ بمعنی گیلی مٹی یا گارا [الانعام: 2]
(4) ﴿طِيْنٍ لاَّزِبٍ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی [الصافات: 11]
(5) ﴿حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ بمعنی بدبو دار کیچڑ [الحجر: 26]
(6) ﴿صَلَصَالٍ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی [ايضاً]
(7) ﴿صَلْصَالٍ كَاْلفَخَّارٍ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری [الرحمن: 14]
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو ی﴿﴾ہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا [4: 1]
پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔