ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القمر (54) — آیت 17

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ En
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
En
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان [17] بنا دیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
[17] قرآن کی خوبیاں اور آسان زبان :۔
یہ اللہ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنے کلام کو آسان اور سہل بنا دیا ہے۔ اس میں دی گئی مثالیں تشبیہات مناظر قدرت، دلائل اور انداز بیان سادہ اور عام فہم ہیں اس لیے کہ اس کے اولین مخاطب امی لوگ تھے۔ لکھے پڑھے عالم فاضل لوگ نہیں تھے۔ یہ کسی فلسفے یا منطق کی کتاب بھی نہیں جس کی عبارت پیچیدہ اور مغلق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتا دیا کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی پیچیدگی نہیں رکھی۔ [8: 11]
نیز اس میں محض خیالی فلسفے نہیں بلکہ ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے انسان کی عملی زندگی کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے اور ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں شعر نہ ہونے کے باوجود اس میں موزونیت اور تاثیر شعر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اس کو حفظ کرنا آسان ہے اور ہر چھوٹا بڑا عربی عجمی اسے تھوڑی سی محنت سے حفظ کر لیتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کے حافظ ہر دور میں لاکھوں کی تعداد میں رہے ہیں۔ پھر اس کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ اس کے اولین مخاطب تو امی ہیں۔ لیکن خطاب کرنے والی وہ ہستی ہے جو سب سے بڑھ کر علیم و حکیم ہے جس سے اس میں دو گونہ خوبیاں پیدا ہو گئیں ایک یہ کہ مبتدی اور منتہی دونوں اس کلام سے ایک جیسے مستفید ہوتے ہیں اور اپنی اپنی علمی سطح کے مطابق اس سے استفادہ اور ہدایت حاصل کر سکتے ہیں اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آسان انداز بیان اختیار کرنے کے باوجود اس کلام میں لا تعداد اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں جو باربار پڑھنے اور غور کرنے سے منکشف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لا تنقضی عجائبہ کہہ کر ان باتوں کی طرف اشارہ فرما دیا: یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائب ختم ہونے میں آہی نہیں سکتے۔