55۔ پس تو (اے انسان!) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں [37] میں شک کرے [38] گا؟
[37] ظالم قوموں کی تباہی بھی بنی نوع انسان کے لئے نعمت ہے :۔
اللہ کی بنی نوع انسان پر سب بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ ظالم اور سرکش قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے۔ تاکہ باقی لوگوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات ملے اور وہ بھی دنیا میں چین سے زندگی بسر کر سکیں۔ گویا سب ظالم قوموں کی تباہی بھی اللہ کی نعمتیں تھیں اور انسانیت پر احسانات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر ایک دوسرے مقام پر بڑے واشگاف الفاظ میں یوں بیان فرمایا: ﴿وَلَوْلَادَفْعُاللّٰهِالنَّاسَبَعْضَهُمْبِبَعْضٍلَّفَسَدَتِالْاَرْضُوَلٰكِنَّاللّٰهَذُوْفَضْلٍعَلَيالْعٰلَمِيْنَ﴾[251:2] [38]﴿تَتَمَارٰي﴾ کے معنی شک کرنا بھی ہے اور جھگڑا کرنا بھی۔ یعنی تاریخ سے اتنی مثالیں پیش کرنے کے بعد بھی تجھے اس بات میں کچھ شک رہ جاتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے اکڑ دکھائی اسے آخر تباہی سے دو چار ہونا پڑا؟ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ جیسے وہ لوگ اپنے نبیوں سے جھگڑا کرتے رہے کیا تو بھی انہیں باتوں میں جھگڑا کرے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔