مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النجم (53) — آیت 32

اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾
وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہ، یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، وہ تمھیں زیادہ جاننے والا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ سو اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو ، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا۔
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ جو کبیرہ گنا ہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں الا یہ کہ چھوٹے گناہ [22] (ان سے سرزد ہو جائیں) بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع [23] ہے۔ وہ تمہاری اس حالت کو بھی خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس حالت کو بھی جب تم اپنی ماؤں کے بطنوں میں [24] جنین تھے لہذا تم اپنے پاک ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔
[22] اس فقرہ کی تشریح و تفسیر کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ 51، 53 ملاحظہ فرمائیے۔
[23] یعنی یہ اس کی مغفرت کی وسعت ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو وہ ان گناہوں سے متعلق تمہارے خیالات، ابتدائی اقدامات تمہاری لغزشیں اور آلودگیاں سب کچھ معاف فرما دے گا۔ حالانکہ ان کی تعداد بڑے گناہوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔
[24] اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیوں غلط ہے؟
یعنی کسی بھی شخص کو اپنے تقویٰ اور نیک اعمال پر ناز اور فخر نہیں کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بزرگ نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اسے ابتدائ اپنی پیدائش پر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ کن کن حالتوں سے گزر کر اس مقام تک آیا ہے اور کیا وہ حالتیں اس قابل ہیں کہ ان پر فخر کیا جا سکے۔ مٹی کے بعد اس کی پیدائش پانی کے ایک غلیظ اور حقیر قطرہ سے ہوئی پھر وہ ایک مدت اپنی ماں کے پیٹ کی غلاظتوں میں پرورش پاتا رہا۔ اور اب اگر وہ ایمان لے آیا ہے یا کچھ نیک عمل بجا لا چکا ہے تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیونکر زیب دیتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی معلوم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں کس قسم کے اعمال کر کے مرنے والا ہے کیونکہ زیادہ تر اعتبار تو انہی اعمال کا ہو سکتا ہے جو اس نے اپنی آخری زندگی میں انجام دیئے ہوں اور اس کے ایسے ہی اعمال پر اس کی اخروی جزا و سزا یا فلاح کا انحصار ہو گا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے:
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا گیا وہ بھی سچا تھا: ” تم میں سے ہر ایک کا مادہ (نطفہ) اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع کیا جاتا ہے۔ پھر چالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتا ہے۔ پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟ رزق کتنا ہو گا؟ عمر کتنی ہو گی؟ اور آیا وہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت؟ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر (دنیا میں آنے کے بعد) تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر نیک کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ بہشت اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آتا ہے تو وہ کوئی دوزخیوں کا سا کام کر بیٹھتا ہے اور کوئی بندہ زندگی بھر برے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ دوزخ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے پھر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ بہشتیوں کا سا کام کرتا ہے“ (اور وہ بہشت میں چلا جاتا ہے۔) [بخاري، كتاب بدء الخلق۔ باب ذكر الملائكة]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم جنگ خیبر میں موجود تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی (قزمان) کے حق میں فرمایا جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا (لیکن حقیقتاً منافق تھا) کہ ”یہ شخص دوزخی ہے“ یہ شخص خوب جم کر لڑا اور زخمی ہوا حتیٰ کہ بعض لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے متعلق شک پیدا ہونے لگا۔ پھر لوگوں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ جب اسے زخموں سے زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنی ترکش میں ہاتھ ڈال کر ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی گردن کو زخمی کر کے خودکشی کر لی۔ یہ صورت حال دیکھ کر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی کی۔ اس شخص نے خود کشی سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اٹھ اور لوگوں میں منادی کر دے کہ ”بہشت میں وہی جائے گا جو مومن ہو گا اور اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ بد کار آدمی سے بھی اپنے دین کی مدد کرا دیتا ہے۔“ [بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔