تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلَّا اللَّمَمَ: ”اَلْإِلْمَامُ“} اور {”اَللَّمَمُ“} کا اصل معنی ”کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترنا“ ہے۔ {”أَلَمَّ فُلَانٌ بِالْمَكَانِ“} جب کوئی شخص کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترا ہو۔ یعنی بھلائی کرنے والے لوگ جنھیں اللہ بھلائی کے ساتھ جزا دے گا، وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سے ان کی آلودگی تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۷،۱۸) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔“ {” اللَّمَمَ “} کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، {” أَلَمَّ بِالشَّيْءِ إِذَا قَارَبَهُ وَلَمْ يُخَالِطْهُ “} جب کوئی شخص کسی کام کے قریب ہوا ہو، مگر اس نے وہ کام نہ کیا ہو۔ اس لیے اکثر سلف نے {” اللَّمَمَ “} سے مراد صغیرہ گناہ لیے ہیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”میں نے {” اللَّمَمَ “} کے مشابہ اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں دیکھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳] ”اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے لامحالہ اس نے پانا ہی پانا ہے۔ سو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس سب کو سچا کر دکھا تی ہے یا جھوٹا۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۳۱) کی تفسیر۔
➌ { اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے فرمایا کہ تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، یعنی اس کی ربوبیت کا نتیجہ ہے کہ وہ بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انھیں معاف فرماتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت فرمائے تو زمین پر کوئی متنفس باقی نہ چھوڑے۔ اس کی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کا ہر گناہ حتیٰ کہ کفر و شرک بھی معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہے کفر و شرک کے سوا توبہ کے بغیر بھی سب کچھ معاف کر دیتا ہے۔
➍ { هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …:” اَجِنَّةٌ “ ”جَنِيْنٌ“} کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہے، کیونکہ وہ وہاں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی اس کی مغفرت کی یہ وسعت اس کے علم کی وسعت کی وجہ سے ہے، وہ تم سے بھی زیادہ تمھارا علم رکھتا ہے، اسے تمھارا اس وقت کا حال بھی معلوم ہے جب تم اس قابل ہی نہیں تھے کہ کچھ جان سکو۔ چنانچہ وہ تمھارے اس وقت کا بھی علم رکھتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس وقت کا بھی جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حالت میں تھے۔ اسے تمھاری کمزوری اور گناہ کی طرف رغبت خوب معلوم ہے، اس لیے وہ چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔
➎ {فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى:} اس لیے اگر تمھیں کسی اچھے کام کی توفیق مل جائے تو نہ اس پر فخر کرو اور نہ اپنے آپ کو پاک قرار دو۔ ہمیشہ اپنی ابتدا پر نظر رکھو اور اپنی انتہا پر بھی، کیونکہ تمھارا انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اچھا ہے یا برا۔ وہی جانتا ہے کہ حقیقی متقی کون ہے، جس کا خاتمہ تقویٰ پر ہو گا، تو جب تمھیں اپنا انجام ہی معلوم نہیں تو اپنے پاک ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔
➏ اس حکم کی دھڑلے کے ساتھ مخالفت سب سے زیادہ بعض صوفی حضرات نے کی ہے۔ اس کی واضح دلیل ان کا ”وحدت الوجود“ کا عقیدہ ہے، بھلا جو شخص مردہ مٹی سے بنا، پھر رحم کی تین ظلمتوں میں غلیظ خون کے ساتھ پرورش پاتا رہا اور پیشاب کے راستوں سے دو دفعہ گزر کر وجود میں آیا، جسے اپنے انجام تک کا علم نہیں کہ جنت ہے یا جہنم، اسے خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آتی۔ ان لوگوں نے اپنی {” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰي “} کی فرعونیت کو زہد و تقدس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے: {”سُبْحَانِيْ مَا أَعْظَمَ شَأْنِيْ“} ”میں پاک ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے۔“ کوئی کہتا ہے: {”مُلْكِيْ أَعْظَمُ مِنْ مُلْكِ اللّٰهِ“} ”میرا ملک اللہ کے ملک سے بڑا ہے۔“ کوئی کہتا ہے: ”میرا دل چاہتا ہے دوزخ کو بجھا دوں، جنت کو جلا دوں۔“ غرض اپنی پاکبازی کے دعوے کے ساتھ جو لاف زنی اور بے ہودہ گوئی یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو اور کسی جگہ مشکل سے ملے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[23] یعنی یہ اس کی مغفرت کی وسعت ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو وہ ان گناہوں سے متعلق تمہارے خیالات، ابتدائی اقدامات تمہاری لغزشیں اور آلودگیاں سب کچھ معاف فرما دے گا۔ حالانکہ ان کی تعداد بڑے گناہوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا گیا وہ بھی سچا تھا: ” تم میں سے ہر ایک کا مادہ (نطفہ) اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع کیا جاتا ہے۔ پھر چالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتا ہے۔ پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟ رزق کتنا ہو گا؟ عمر کتنی ہو گی؟ اور آیا وہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت؟ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر (دنیا میں آنے کے بعد) تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر نیک کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ بہشت اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آتا ہے تو وہ کوئی دوزخیوں کا سا کام کر بیٹھتا ہے اور کوئی بندہ زندگی بھر برے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ دوزخ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے پھر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ بہشتیوں کا سا کام کرتا ہے“ (اور وہ بہشت میں چلا جاتا ہے۔) [بخاري، كتاب بدء الخلق۔ باب ذكر الملائكة]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم جنگ خیبر میں موجود تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی (قزمان) کے حق میں فرمایا جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا (لیکن حقیقتاً منافق تھا) کہ ”یہ شخص دوزخی ہے“ یہ شخص خوب جم کر لڑا اور زخمی ہوا حتیٰ کہ بعض لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے متعلق شک پیدا ہونے لگا۔ پھر لوگوں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ جب اسے زخموں سے زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنی ترکش میں ہاتھ ڈال کر ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی گردن کو زخمی کر کے خودکشی کر لی۔ یہ صورت حال دیکھ کر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی کی۔ اس شخص نے خود کشی سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اٹھ اور لوگوں میں منادی کر دے کہ ”بہشت میں وہی جائے گا جو مومن ہو گا اور اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ بد کار آدمی سے بھی اپنے دین کی مدد کرا دیتا ہے۔“ [بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11]
شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔
تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ ‘
پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔
بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟
خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔
محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2142]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662]
ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ { ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:7431]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر وصفَهم، فقال: {الذين يَجْتَنِبون كبائرَ الإثم والفواحشَ}؛ أي: يفعلون ما أمرهم اللهُ به من الواجبات، التي يكون تركُها من كبائر الذُّنوب، ويتركون المحرَّمات الكبار من الزِّنا وشرب الخمر وأكل الرِّبا والقتل ونحو ذلك من الذُّنوب العظيمة، {إلاَّ اللَّمم}: وهو الذُّنوب الصغارُ التي لا يصرُّ صاحبها عليها، أو التي يلمُّ العبدُ بها المرَّة بعد المرَّة على وجه الندرة والقلَّة؛ فهذه ليس مجرَّد الإقدام عليها مخرجاً للعبد من أن يكون من المحسنين؛ فإنَّ هذه مع الإتيان بالواجبات وترك المحرمات تدخُلُ تحت مغفرة الله التي وسعتْ كلَّ شيءٍ، ولهذا قال: {إنَّ ربَّك واسعُ المغفرةِ}: فلولا مغفرتُه؛ لهلكتِ البلادُ والعبادُ، ولولا عفوُه وحلمه؛ لسقطتِ السماء على الأرض، ولَمَا ترك على ظهرها من دابَّةٍ، ولهذا قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان؛ مكفراتٌ لما بينهنَّ ما اجتُنِبَتِ الكبائر». وقوله: {هو أعلم بكم إذْ أنشأكُم من الأرضِ وإذْ أنتُم أجنَّةٌ في بطون أمَّهاتِكم}؛ أي: هو تعالى أعلم بأحوالكم كلِّها، وما جبلكم عليه من الضَّعف والخَوَر عن كثيرٍ مما أمركم الله به، ومن كثرة الدواعي إلى فعل المحرَّمات، وكثرة الجواذب إليها، وعدم الموانع القويَّة، والضعف موجودٌ مشاهدٌ منكم حين أخرجكم الله من الأرض، وإذ كنتم في بطونِ أمَّهاتكم، ولم يزل موجوداً فيكم، وإنْ كان الله تعالى قد أوجدَ فيكم قوَّةً على ما أمركم به. ولكنَّ الضعف لم يزلْ؛ فلعلمه تعالى بأحوالكم هذه؛ ناسبت الحكمةُ الإلهيَّة والجود الربانيُّ أن يتغمَّدكم برحمته ومغفرته وعفوه، ويغمرَكم بإحسانه، ويزيل عنكم الجرائم والمآثم، خصوصاً إذا كان العبدُ مقصودُه مرضاة ربِّه في جميع الأوقات، وسعيُه فيما يقرُبُ إليه في أكثر الآنات، وفراره من الذُّنوب التي يمقتُ بها عند مولاه، ثم تقع منه الفلتة بعد الفلتة؛ فإنَّ الله تعالى أكرم الأكرمين وأجود الأجودين، أرحم بعبادِهِ من الوالدةِ بولدِها؛ فلا بدَّ لمثل هذا أن يكون من مغفرة ربِّه قريباً، وأن يكونَ الله له في جميع أحوالِهِ مجيباً، ولهذا قال تعالى: {فلا تزكُّوا أنفسَكم}؛ أي: تخبرون الناس بطهارتها على وجه التمدُّح عندهم، {هو أعلم بمن اتَّقى}؛ فإنَّ التَّقوى محلُّها القلبُ، والله هو المطَّلع عليه، المجازي على ما فيه من برٍّ وتقوى، وأما الناسُ؛ فلا يغنون عنكم من الله شيئاً.