ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الطور (52) — آیت 29

فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾
پس نصیحت کر، کیونکہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔ En
تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے
En
تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پس آپ نصیحت کرتے رہئے۔ اپنے رب کے فضل سے آپ کاہن یا مجنون [23] نہیں
[23] کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔
یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دشمن بغض و عناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔