اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا اللہ تمھیں شکار میں سے کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائے گا، جس پر تمھارے ہاتھ اور نیزے پہنچتے ہوں گے، تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے، پھر جو اس کے بعد حد سے بڑھے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
En
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک سزا ہے
En
94۔ اے ایمان والو! اللہ ایسے شکار کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے گا جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہو۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ کون غائبانہ طور پر [141] اللہ سے ڈرتا ہے۔ پھر اس کے بعد بھی جس نے (اللہ کی حدود سے) تجاوز کیا، اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
[141] یعنی محرم شکار کے لیے نہ کسی دوسرے کو کہہ سکتا ہے نہ شکار کی طرف یا شکار کرنے کے لیے کسی کو اشارہ کرسکتا ہے اور نہ ہی شکار میں کسی طرح کی مدد کرسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا ہو تو اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
محرم پر شکار کی پابندی :۔
ابو قتادہ کہتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ کے تمام صحابہ نے احرام باندھا صرف میں نے نہیں باندھا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنی جوتی سینے میں مشغول تھا لیکن انہوں نے مجھے نہ بتایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظر اٹھائی تو گدھے کو دیکھا۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوگیا اور (جلدی سے) کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر دے دو۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! ہم اس کام میں تمہاری کچھ مدد نہ کریں گے۔ مجھے غصہ آگیا۔ خیر میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور پھر سوار ہوگیا۔ پھر میں اس گدھے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ چبھو کر اسے روک دیا۔ میں نے پھر ان سے مدد طلب کی۔ انہوں نے پھر میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ الغرض ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ پھر میں رسول اکرم سے جا ملا۔ میں نے کہا کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا تھا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی؟ صحابہ نے کہا نہیں پھر آپ نے صحابہ سے جو کہ احرام باندھے ہوئے تھے کہا تم بھی اسے کھا سکتے ہو۔ پھر پوچھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے؟ میں نے دستی پیش کی جسے آپ نے کاٹ کر کھایا۔ [مسلم۔ كتاب الحج۔ باب تحريم الصيد للمحرم بخاري۔ ابو اب العمرة۔ باب اذا راي المحرمون صيداً فضحكوا۔۔ الخ] واضح رہے کہ جس طرح احرام باندھے ہوئے کو شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں داخل ہونے والے پر بھی حرام ہے کیونکہ انتم حرم کا لفظ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ اور یہ آزمائش اس لحاظ سے تھی کہ حدیبیہ کے سفر میں راستہ میں شکار کی بڑی افراط تھی اور مسلمانوں کی خوراک کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی حتیٰ کہ بعض جانور اور پرندے صحابہ کے خیموں اور ڈیروں میں گھس آتے تھے۔ تاہم مسلمان اس آزمائش میں پورے اترے جبکہ بنی اسرائیل کے سمندر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر ایسے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہوئے اور مکر و فریب سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں وہ بندر بنا دیئے گئے تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔