تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {تَنَالُهٗۤ اَيْدِيْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ:} یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کر سکتے ہو۔
➌ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ …:} یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کر دیا گیا ہے۔ (قرطبی)
➍ یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
واضح رہے کہ جس طرح احرام باندھے ہوئے کو شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں داخل ہونے والے پر بھی حرام ہے کیونکہ انتم حرم کا لفظ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
اور یہ آزمائش اس لحاظ سے تھی کہ حدیبیہ کے سفر میں راستہ میں شکار کی بڑی افراط تھی اور مسلمانوں کی خوراک کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی حتیٰ کہ بعض جانور اور پرندے صحابہ کے خیموں اور ڈیروں میں گھس آتے تھے۔ تاہم مسلمان اس آزمائش میں پورے اترے جبکہ بنی اسرائیل کے سمندر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر ایسے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہوئے اور مکر و فریب سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں وہ بندر بنا دیئے گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا ‘۔
اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ { ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1862]
اس روایت کو سن کر حضرت ایوب رحمہ اللہ اپنے استاد نافع رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے۔“ اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد،امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لیے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ زید بن اسلم اور سفیان بن عیینہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابولہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا: { اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے }، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔
ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
بعض احادیث میں «الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ» کا لفظ آیا ہے ۱؎ [صحیح مسلم:1198] یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔
امام ملک رحمة الله فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد رحمة الله وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1198،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر رحمة الله سے مروی ہے کہ ”مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔“ یہ قول بھی غریب ہے۔
جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری رحمة الله فرماتے ہیں ”قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔“ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت «لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ» ۱؎ [5-المائدہ:95] میں فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لیے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کردے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لیے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے۔ [بیہقی]
پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کرکے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کیا حکم ہے؟“ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس میں تیرا کیا بگڑا؟“ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لیے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کر لیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔
یہاں یہی چاہیئے تھا صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا۔
یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیئے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ رضی اللہ عنہ کوڑہ لیے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا ”تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔“ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ رضی اللہ عنہ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچا رہ۔“
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے“ میں جا کر عبدالرحمٰن کو اور سعد رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم رحمة الله علیہم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد رحمة الله کا قول یہی ہے، امام احمد رحمة الله فرماتے ہیں گیہوں ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لیے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1815]
فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔
اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے۔
ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر رحمة الله کا مختار قول بھی یہی ہے۔
گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت «فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ» [5-المائدہ:95] کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبردست انتقام لیتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من مِنَنِ الله على عباده أن أخبرهم بما سيفعل قضاءً وقدراً ليطيعوه ويقدموا على بصيرة ويهلك من هلك عن بيِّنة ويحيا من حيَّ عن بيِّنة، فقال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا}: لا بدَّ أن يَختبر الله إيمانكم، {لَيَبْلُوَنَّكم الله بشيءٍ من الصيد}؛ أي: شيء غير كثير، فتكون محنةً يسيرةً؛ تخفيفاً منه تعالى ولطفاً، وذلك الصيد الذي يبتليكم الله به {تنالُهُ أيديكم ورِماحُكم}؛ أي: تتمكَّنون من صيده؛ ليتمَّ بذلك الابتلاء؛ لا غير مقدور عليه بيد ولا رمح فلا يبقى للابتلاء فائدةٌ. ثم ذكر الحكمة في ذلك الابتلاء، فقال: {ليعلمَ اللهُ}: علماً ظاهراً للخَلْق يترتَّب عليه الثواب والعقاب، {مَن يخافُه بالغيب}: فيكفُّ عمَّا نهى الله عنه، مع قدرتِهِ عليه وتمكُّنه، فيثيبه الثواب الجزيل، ممَّن لا يخافه بالغيب، فلا يرتدع عن معصيةٍ تعرِض له، فيصطاد ما تمكَّن منه. {فمن اعتدى}: منكم بعد هذا البيان الذي قطع الحجج وأوضح السبيل، {فله عذابٌ أليمٌ}؛ أي: مؤلم موجع، لا يقدر على وصفه إلا الله؛ لأنه لا عذر لذلك المعتدي، والاعتبار بمن يخافه بالغيب وعدم حضور الناس عنده، وأما إظهار مخافة الله عند الناس؛ فقد يكون ذلك لأجل مخافة الناس، فلا يُثاب على ذلك.