ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 89

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾
اللہ تم سے تمھاری قسموں میں لغو پر مؤاخذہ نہیں کرتا اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، درمیانے درجے کا، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔ En
خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو
En
اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفاره دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفاره ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اللہ تمہاری مہمل قسموں پر تو گرفت نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم سچے [132] دل سے کھاتے ہو ان پر ضرور مواخذہ کرے گا (اگر تم ایسی قسم توڑ دو تو) اس کا کفارہ [132۔1] دس مسکینوں کا اوسط درجے کا کھانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کی پوشاک ہے یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے اور جسے میسر نہ ہوں وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم اٹھا کر توڑ دو۔ اور (بہتر یہی ہے کہ) اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو
[132] قسموں کے مسائل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تکیہ کلام کے طور پر (نیت سے نہیں) کہہ دیتا ہے جیسے: «لا والله» «بلي والله» نیز آپ فرماتی ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کبھی قسم نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ کی آیت نازل فرمائی اس وقت وہ کہنے لگے میں جب قسم کھا لوں پھر اس کے خلاف کو اچھا سمجھوں تو اللہ کی رخصت منظور کر کے وہ کام کرلیتا ہوں جسے اچھا سمجھتا ہوں۔ [بخاري كتاب التفسير]
2۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر کسی نے قسم کھانا ہو تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔ [بخاري كتاب الايمان والنذور۔ مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب النهي عن الحلف بغير الله تعالىٰ]
3۔ آپ نے فرمایا جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [ابو داؤد۔ كتاب الايمان والنذور باب۔ فى كراهية الحلف بالابائ]
4۔ آپ نے فرمایا نہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ شریکوں کی اور اللہ کی قسم بھی اس وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔ [ابو داؤد۔ كتاب الايمان والنذور باب۔ فى كراهيه الحلف بالاباء نسائي۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب الحلف بالامهات]
5۔ آپ نے فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کو ستانا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب اليمين الغموس ﴿وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ النحل:94]
6۔ آپ نے فرمایا جو شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے پھر انشاء اللہ کہے تو اس پر (قسم توڑنے کا) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [ترمذي۔ ابو اب النذور والايمان۔ باب فى الاستثناء فى اليمين]
7۔ سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم نے قسم دینے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور باب واقسموا بالله جهد ايمانهم]
8۔ آپ نے فرمایا قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ [مسلم۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب اليمين على نية المستحلف]
9۔ آپ نے فرمایا اگر تم کسی کام کے کرنے کی قسم کھالو، پھر کسی اور کام میں بہتری سمجھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب: ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ [البقرة:225] مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب ندب من حلف يمينا]
[132۔1]
قسموں کی قسمیں :۔
کلام عرب سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب میں بات بات پر قسمیں کھانے کا عام رواج تھا۔ اور ان میں سے زیادہ تر قسمیں یا تو محض تکیہ کلام کے طور پر ہوا کرتی تھیں یا پھر کلام میں حسن پیدا کرنے کے لئے۔ ایسی ہی قسموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے لغو کا لفظ استعمال فرمایا ہے جن کا کوئی کفارہ نہیں۔ رہیں وہ قسمیں جو دل کے ارادہ سے اٹھائی جائیں تو ان کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو کسی درست بات پر اٹھائی جائیں اور اگر ان کا تعلق مستقبل سے ہو تو انہیں قسم کے مطابق پورا بھی کردیا جائے۔ ایسی قسموں پر کفارہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری وہ قسم جس کا تعلق مستقبل سے ہو اور جس کام پر قسم اٹھائی گئی وہ ممنوع تو نہ تھا مگر اس کام پر قسم نہ اٹھانا ہی بہتر تھا۔ جیسے ایک دفعہ خود رسول اللہ نے آئندہ شہد نہ پینے پر قسم اٹھا لی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی [التحريم آيت: 1]
یا کسی صحابی نے ایک مرغی کو غلاظت میں چونچ مارتے دیکھ لیا تو آئندہ مرغی نہ کھانے پر قسم اٹھائی تھی۔ ایسی قسموں کو بھی توڑ کر ان کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں سے حدیث نمبر 1۔ اور حدیث نمبر 9 سے واضح ہے۔
قسمیں اور ان کا کفارہ کفارے میں قدر مشترک غلام کی آزادی :۔
کفارہ کا لغوی معنی وہ نیکی کا کا کم کرنا ہے جو کسی پہلے سے کئے ہوئے برے کام کا عوض بن کر اس کو ڈھانپ دے یا ختم کردے۔ قرآن کریم اور احادیث میں بہت سے ایسے گناہوں کا ذکر آیا ہے جن کے کفارے بیان گئے ہیں۔ مثلا قتل خطا کا کفارہ ظہار کا کفارہ احرام کی حالت میں شکار کرنے کا کفارہ فرضی روزہ توڑنے کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ اور کسی کو رخمی کرنے کا کفارہ وغیرہ ان میں سے اکثر کفاروں میں قدر مشترک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جیسا کہ قسم توڑنے کے کفارے میں بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے غلامی کا رواج ایک مذموم چیز تھی جسے آہستہ آہستہ ختم کردیا گیا۔ آج الحمدللہ غلامی کا رواج نہیں رہا۔ لہذا قسم کے کفارہ کی باقی تین متبادل صورتیں رہ گئی ہیں۔ ایک دس مسکینوں کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق درمیانہ درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو پوشاک مہیا کرنا یا تین روزے رکھنا۔ اب یہ ضروری نہیں کہ دس مسکینوں کو بلا کر انہیں اکٹھا بٹھا کر کھانا ہی کھلایا جائے بلکہ اس کی قیمت لگا کر یہ رقم دس مسکینوں کو یا کسی ایک کو یا دو تین مسکینوں کو بھی دی جاسکتی ہے۔ یہی صورت حال پوشاک کی بھی ہے۔ اور روزوں کے متعلق بظاہر اس آیت میں کوئی پابندی نہیں کہ وہ اکٹھے ہی ایک ساتھ تین دن رکھے جائیں۔ اس میں گنجائش موجود ہے کہ یہ روزے الگ الگ دنوں میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔