اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
En
اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے
En
8۔ اے ایمان والو! اللہ کی خاطر قائم رہنے والے [31] اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مشتعل نہ کر دے کہ تم عدل کو چھوڑ دو۔ عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ کے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ اس سے با خبر ہے
[31] دشمن قوم پر بھی گواہی میں انصاف:۔
پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر 135 میں اس سے ملتا جلتا مضمون گزر چکا ہے کہ تم اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جا رہی ہو یا تمہارے والدین اور اقرباء کے خلاف جا رہی ہو۔ یہاں اس آیت میں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم سابقہ دشمنیوں اور قبائلی عصبیتوں سے بالکل بے نیاز ہو کر انصاف کی گواہی دیا کرو۔ کسی شخص کی یا کسی قوم کی دشمنی تمہاری گواہی پر یا تمہارے عدل و انصاف پر ہرگز اثر انداز نہ ہونی چاہیے اس کی واضح مثال تو اس انصاری کا واقعہ ہے جس نے کسی مسلمان کی ایک زرہ چرا لی اور ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا تھا (یہ واقعہ سورۃ نساء کی آیت نمبر 107 کے تحت بیان ہو چکا ہے) مالک یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا چور (جو حقیقتاً منافق تھا) کی سوچ ہی یہی تھی کہ میں چونکہ مسلمان ہوں اس لیے یہودی کے مقابلہ میں یقیناً آپ میری حمایت کریں گے۔ پھر اس چور اور اس کے خاندان والوں نے اسی قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کا ساتھ دیا اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم اس چوری کے قصہ میں بالکل بے تعلق ہیں اور قریب تھا کہ آپ یہودی کے خلاف اور اس منافق کے حق میں فیصلہ بھی دیتے کہ اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو حقیقی صورت سے مطلع فرما دیا۔ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے کہ جس شخص کے حق میں تمہیں گواہی دینا پڑے، گواہی بالکل ٹھیک ٹھیک دیا کرو خواہ وہ تمہارا دوست ہو یا دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ کیونکہ تم میں عدل و انصاف اور تقویٰ پیدا کرنے والے اسباب میں سے یہ ایک موثر ترین سبب ہے اور تمہیں شہادت دیتے وقت ہر لمحہ یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جو کچھ تم کہو گے اللہ سن رہا ہے اور جو کچھ کرو گے اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور بعض مفسرین نے ﴿كُوْنُوْاقَوّٰمِيْنَلِلّٰهِشُهَدَاءَ﴾ کا یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے بن جاؤ۔ یعنی تم پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ تم تمام اقوام عالم کو اپنے قول سے بھی اور فعل سے توحید اور احکام اخلاق کی تعلیم دینے کے ذمہ دار بن جاؤ۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے اس پر عمل کر کے دکھایا اسی ذمہ داری کو تمہیں بحال رکھنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہیے اور اس سلسلہ میں تمہیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔