یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ اِلَی الۡمَرَافِقِ وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ اِلَی الۡکَعۡبَیۡنِ ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنۡہُ ؕ مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پائوں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پائو تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔
En
مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو
En
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اے ایمان والو! جب نماز ادا کرنے کے لیے اٹھو تو پہلے اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھوں کو دھو لو، اپنے سروں کا مسح کر لو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر طہارت حاصل کرو۔ [26] ہاں اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تمہیں پانی نہ مل رہا ہو تو پاک مٹی سے کام لو۔ پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اللہ تم پر زندگی کو تنگ [27] نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے [28] تاکہ تم اس کے شکرگزار بنو
[26] حلت و حرمت کے احکام سے مقصود نفس کی طہارت تھا۔ اب جسم کی طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں وضو، تیمم اور غسل جنابت کا ذکر آیا ہے۔ تیمم اور غسل جنابت کے متعلق احادیث تو پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر 3۔ 4 کے تحت درج کی جا چکی ہیں وہاں سے دیکھ لی جائیں اور وضو اور طہارت کے متعلق احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں: وضو سے متعلق احکام: ایک دفعہ سیدنا عثمانؓ نے پانی کا برتن منگوایا۔ پھر پہلے اپنی ہتھیلیوں پر تین بار پانی ڈال کر انہیں دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا منہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے، پھر ایک ہی بار سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئے پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر (تحیۃ الوضوء کی) دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ اس کے دل میں کوئی دنیوی خیال نہ ہو اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔“ [بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب الوضوء ثلثا]
2۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں جاتے تو کہتے
«اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ»
”اے اللہ میں بھوتوں اور بھتنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب مایقول عند الخلاء]
3۔ ابو ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی قضائے حاجت یعنی پاخانہ کرنے کے لیے آئے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ بلکہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف منہ کرو۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء باب۔ استقبال القبلۃ لغائط او بول]
4۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی باغ پر سے گزرے وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہو رہا۔“ پھر فرمایا ”ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی منگوائی۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ فرمایا ”جب تک یہ سوکھیں نہیں شاید ان کے عذاب میں کچھ کمی ہو۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب من الکبائر ان لایستترمن بولہ]
5۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی کھڑے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔“
[بخاری۔ کتاب الوضو۔ باب البول فی الماء الدائم]
6۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جس شخص کو حدث ہو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کر لے۔ ”حضرموت کے ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا: ابوہریرہ حدث کیا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا ”پھسکی یا پاد“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب لاتقبل الصلٰوۃ بغیر طہور]
7۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے پانچ مد تک پانی سے غسل کر لیا کرتے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتے۔
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب الوضوء بالمد]
8۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میری مذی بہت نکلتی تھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم محسوس کی اور مقداد بن اسود سے کہا، تم پوچھ دو۔ مقداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس میں وضو ہے۔“
[بخاری کتاب الوضوء۔ باب من لم یرالوضوء الا من المخرجین القبل والدبر۔ نیز کتاب العلم۔ باب من استحیا۔۔]
9۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اپنے قدم پر ناخن بھر جگہ (خشک) چھوڑ دی۔ آپ نے دیکھا تو اسے فرمایا ’واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔‘ چنانچہ وہ شخص واپس ہوا۔ پھر (وضو کر کے) نماز پڑھی۔
[مسلم۔ کتاب الطہارۃ۔ باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطہارۃ]
10۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں پایا کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر مسح کر رہے تھے تو آپ نے تین مرتبہ بلند آواز سے پکارا وَیْلٌ للاَعْقَابِ مِنَ النَّار یعنی ان خشک ایڑیوں کے لیے بربادی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”وضو مکمل کرو“
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب غسل الرجلین ولا یمسح علی القدمین]
11۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے مسواک کر رہے تھے۔ آپ اع اع کی آواز نکال رہے تھے اور مسواک آپ کے منہ میں تھی گویا قے کر رہے ہیں۔
[بخاری کتاب الوضوء۔ باب السواک]
12۔ عروہ بن مغیرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر (غزوہ تبوک) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا (آپ وضو کر رہے تھے) میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رہنے دو! میں نے انہیں با وضو پہنا ہے۔“ پھر ان پر مسح کیا۔
[بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب اذا ادخل رجلیہ و ہما طاہرتان]
13۔ عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور پھر کلی کی اور فرمایا کہ ”دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔“
[بخاری۔ کتاب الوضوء باب ھل یمضمض من اللبن]
واضح رہے کہ اس آیت میں جن اعضاء کے دھونے کا ذکر آیا ہے۔ ان کو دھونا فرض ہے یا بالفاظ دیگر وہ وضو کے فرائض ہیں جن کے بغیر وضو ناتمام رہتا ہے اور وہ یہ ہیں۔
(1) اپنے چہرہ کو دھونا (2) اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور کہنیاں اس میں شامل ہیں۔ (3) اپنے سر کا مسح کرنا اور (4) اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا اور ٹخنے ان میں شامل ہیں۔ قرآن میں ان اعضاء کو دھونے یا سر کے مسح کی اجمالی کیفیت بیان ہوئی ہے جس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یا احادیث سے ملتی ہے ایسی کچھ احادیث اوپر ذکر کر دی گئی ہیں جن سے وضو کی سنتیں معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی ایسے افعال جو صرف آپ کی سنت سے معلوم ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند افعال کا ذکر مندرجہ بالا احادیث میں آچکا۔ باقی افعال یا مذکورہ افعال کی کچھ مزید وضاحت ذیل میں درج کی جاتی ہے:
1۔ وضو کی ابتدا میں سب سے پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک دھونا، پھر کلی کرنا، پھر ناک میں پانی چڑھانا اور ناک جھاڑنا، وضو سے پہلے یا ہاتھ دھونے کے بعد کلی کرتے وقت مسواک کرنا۔ ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنا۔ منہ دھوتے وقت داڑھی اگر گھنی ہو تو بالوں میں خلال کرنا اور ہلکی ہو تو جڑوں تک دھونا، سر کے مسح کی ترکیب اور ساتھ ہی کانوں اور گردن کا مسح کرنا۔ یہ سب باتیں سنت سے معلوم ہوتی ہیں۔
2۔ جن اعضاء کو دھونے کا قرآن میں ذکر ہے انہیں ایک بار دھونے سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جاتی ہے اور سنت یہ ہے کہ انہیں دو بار یا تین بار دھویا جائے۔ تین بار دھونا افضل ہے۔ اسی طرح کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی تین بار افضل اور تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ ہے۔
3۔ پہلے دایاں ہاتھ دھویا جائے پھر بایاں۔ اسی طرح پاؤں میں بھی یہی ترتیب ملحوظ رکھنی چاہیے۔ دائیں سے شروع کرنا اور اسے ترجیح دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
4۔ ہر نماز کے لیے نئے سرے سے وضو کرنا واجب نہیں بلکہ ایک ہی وضو سے (یعنی اگر حدث نہ ہوا ہو) تو متعدد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
5۔ سفر میں ایک وضو کر کے موزے یا جرابیں پہننے کے بعد ان پر تین دن تک مسح کیا جا سکتا ہے اور حضر میں اس کی مدت صرف ایک دن ہے۔
6۔ اگر کوئی عضو زخمی ہو جسے دھونے سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
پاؤں دھونے میں شیعہ حضرات کا اختلاف:۔
پاؤں کے دھونے میں شیعہ حضرات نے اختلاف کیا ہے اور اس اختلاف کی وجہ قرأت کا اختلاف ہے، آیت کے الفاظ یہ ہیں۔
﴿ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ﴾
(یعنی ایڑیاں نہ دھونے کی خرابی یہ ہے کہ انہیں آگ کا عذاب چھوئے گا لہٰذا ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر فتحہ والی قرأت کو ہی راجح قرار دیا جا سکتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر کسرہ کی قراءۃ کو بھی درست قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ پر ﴿بِرءُ وُسِكُمْ﴾ کا عطف تسلیم کیا جائے کیونکہ لام پر کسرہ عطف کی وجہ سے نہیں بلکہ جر جوار کے طور پر آیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں متعدد جگہ موجود ہیں جیسے سورۃ ہود میں ہے ﴿عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ﴾ [11: 44] اور سورۃ ؤاقعہ میں ہے ﴿وَحُوْرٌ عِيْنٌ﴾ [56: 22] مطلب یہ ہے کہ عربی گرامر کے مطابق حرکات بسا اوقات قریب کے لفظ کے مطابق آجاتی ہیں اس لحاظ سے ﴿اَرْجُلَكُمْ كا برءُ وُسْكُمْ ﴾پر عطف نہیں بلکہ ﴿بِرَوُسِكُمْ﴾ سے قریب ہونے کی وجہ سے کسرہ یا جر میں شریک ہے، مسح کرنے میں نہیں۔ اور تیسرا جواب عقلی ہے جو یہ ہے کہ سر چونکہ بدن کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے لہٰذا وہ اکثر نجاست اور غلاظت سے محفوظ رہتا ہے پھر بسا اوقات ڈھکا ہوا بھی ہوتا ہے لہٰذا اسے دھونے کے بجائے اس کا مسح ہی کافی سمجھا گیا ہے جبکہ پاؤں بدن کا سب سے نچلا حصہ ہے جو نجاست اور کثافت سے اکثر متاثر ہوتا رہتا ہے لہٰذا زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے انہیں دھویا جائے۔
﴿ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ﴾
(یعنی ایڑیاں نہ دھونے کی خرابی یہ ہے کہ انہیں آگ کا عذاب چھوئے گا لہٰذا ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر فتحہ والی قرأت کو ہی راجح قرار دیا جا سکتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ میں لام پر کسرہ کی قراءۃ کو بھی درست قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ﴿اَرْجُلَكُمْ﴾ پر ﴿بِرءُ وُسِكُمْ﴾ کا عطف تسلیم کیا جائے کیونکہ لام پر کسرہ عطف کی وجہ سے نہیں بلکہ جر جوار کے طور پر آیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں متعدد جگہ موجود ہیں جیسے سورۃ ہود میں ہے ﴿عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ﴾ [11: 44] اور سورۃ ؤاقعہ میں ہے ﴿وَحُوْرٌ عِيْنٌ﴾ [56: 22] مطلب یہ ہے کہ عربی گرامر کے مطابق حرکات بسا اوقات قریب کے لفظ کے مطابق آجاتی ہیں اس لحاظ سے ﴿اَرْجُلَكُمْ كا برءُ وُسْكُمْ ﴾پر عطف نہیں بلکہ ﴿بِرَوُسِكُمْ﴾ سے قریب ہونے کی وجہ سے کسرہ یا جر میں شریک ہے، مسح کرنے میں نہیں۔ اور تیسرا جواب عقلی ہے جو یہ ہے کہ سر چونکہ بدن کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے لہٰذا وہ اکثر نجاست اور غلاظت سے محفوظ رہتا ہے پھر بسا اوقات ڈھکا ہوا بھی ہوتا ہے لہٰذا اسے دھونے کے بجائے اس کا مسح ہی کافی سمجھا گیا ہے جبکہ پاؤں بدن کا سب سے نچلا حصہ ہے جو نجاست اور کثافت سے اکثر متاثر ہوتا رہتا ہے لہٰذا زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے انہیں دھویا جائے۔
[27] دین میں آسانی:۔
یعنی تمہاری مجبوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے تمہیں رخصتیں عطا کر دیتا ہے مثلاً جس مریض کو پانی کے استعمال سے تکلیف کا یا تکلیف کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو اسے خواہ حدث اصغر (پھسکی یا پاد وغیرہ) لاحق ہو یا حدث اکبر (یعنی جنبی ہو خواہ احتلام سے یا صحبت سے) وہ وضو یا غسل کی بجائے تیمم کر سکتا ہے یا ایسا مسافر جسے وضو یا غسل کے لیے پانی مل ہی نہ رہا ہو اس کے لیے بھی یہی رعایت ہے۔
[28] اتمام نعمت کیا ہے؟
یعنی اتمام نعمت اسی شکل میں ہو سکتی ہے کہ نفس کی پاکیزگی کے احکام کے ساتھ ساتھ جسم کی پاکیزگی کے احکام بھی دیئے جائیں۔ ایک مسلمان کے لیے جسم کی صفائی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی نفس کی پاکیزگی اور صفائی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ جسمانی صفائی ایمان کا حصہ یا آدھا ایمان ہے۔
[مسلم۔ کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء]
[مسلم۔ کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء]