اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا ہم ایمان لائے، حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی بنے۔ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت سننے والے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو تیرے پاس نہیں آئے، وہ کلام کو اس کی جگہوں کے بعد پھیر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تمھیں یہ دیا جائے تو لے لو اور اگر تمھیں یہ نہ دیا جائے تو بچ جائو۔ اور وہ شخص کہ اللہ اسے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلے اس کے لیے تو اللہ سے ہرگز کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دلوں کو پاک کرے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
En
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کُڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواه وه ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے دل باایمان نہیں اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وه کلمات کے اصلی موقعہ کو چھوڑ کر انہیں متغیر کردیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اراده ان کے دلوں کو پاک کرنے کا نہیں، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے
En
41۔ اے رسول! آپ ان لوگوں سے غمزدہ نہ ہوں جو کفر میں دوڑ دھوپ کر رہے [74] ہیں ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے۔ اور کچھ یہودی بھی ہیں۔ وہ جھوٹ بنانے کے لیے کان لگاتے ہیں اور ان دوسرے لوگوں کے لیے لگاتے ہیں جو آپ کے [75] پاس نہیں آتے (اللہ کی کتاب کے) کلمات کا موقع و محل متعین ہو جانے کے بعد اس کا مفہوم بدل ڈالتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر (یہ نبی تمہیں) ایسا ایسا حکم دے تو مان لینا ورنہ نہ ماننا“ اور جسے اللہ ہی فتنہ [76] میں مبتلا رکھنا چاہے تو اسے اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں انہیں بہت بڑا عذاب ہو گا
[74] کفار اور منافقوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے آپ کی دل گرفتگی:۔
مکہ میں مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کو دکھ پہچانے والے اور پریشانی میں مبتلا رکھنے والے صرف قریش مکہ تھے مگر مدینہ آ کر آپ کو چار قسم کے لوگوں سے دکھ پہنچ رہا تھا۔ ایک منافقین دوسرے یہود، تیسرے مشرک قبائل عرب اور چوتھے مشرکین مکہ جنہوں نے فتح مکہ تک اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی تاہم اس آیت میں صرف دو قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے ایک منافقین دوسرے یہود۔ اور ان کی معاندانہ سرگرمیاں بھی طرح طرح کی تھیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرنا، مسلمانوں میں ہی فتنہ کی آگ بھڑکانا، لوگوں کو اسلام لانے سے روکنا، مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنا اور گالی دینا اور جنگ کے وقت مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا اور جنگ کے دوران کافروں کا ساتھ دینا۔ ایک تو آپ اس بات پر بھی بہت دل گرفتہ رہتے تھے کہ لوگ کیوں اسلام قبول نہیں کرتے۔ اس پر مستزاد یہ معاندانہ سرگرمیاں بھی شامل ہو جاتیں۔ تو آپ سخت پریشان اور دل گرفتہ ہو جاتے تھے اور ایسا ہونا ایک فطری امر تھا۔ آپ کی اسی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ آپ کو ان حالات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب لوگ اللہ کے علم میں ہیں اور یہ اپنے انجام کو پہنچ کے رہیں گے۔ آپ کو صرف اللہ پر ہر وقت نظر رکھنا چاہیے۔
[75] زانی جوڑے کی سزا:۔
اس آیت میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ہوا یہ تھا کہ خیبر کے ایک امیر گھرانے کے ایک شادی شدہ یہودی اور یہودن نے زنا کیا تھا اور وہ چاہتے یہ تھے کہ رجم کی سزا سے بچ جائیں کیونکہ تورات میں ان کی سزا رجم مقرر تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخر الزماں کی شریعت میں ایسے زنا کی سزا کوڑے ہے رجم نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس یہودی اور یہودن کا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ کا یہود مدینہ سے جو معاہدہ ہوا تھا اس کی رو سے یہودی اس بات میں آزاد تھے کہ اپنے مقدمات اور تنازعات خود ہی تورات کے مطابق فیصلہ کر لیا کریں اور اگر چاہیں تو وہ اپنے مقدمات نبی آخر الزماں کی عدالت میں لے جائیں اس صورت میں آپ کا کیا ہوا فیصلہ ہی ان پر لاگو ہو گا۔ اور یہود یہ مقدمہ اس غرض سے آپ کے پاس لائے تھے کہ یہ امیر زانی جوڑا رجم کی سزا سے بچ جائے اور آپس میں طے یہ کیا کہ اگر یہ نبی کوڑوں کی سزا کا فیصلہ دے تو اس کا فیصلہ تسلیم کر لینا اور اگر رجم کا فیصلہ سنائے تو تسلیم نہ کرنا۔ مسلم کی روایت جو براء بن عازبؓ سے مروی ہے اور آگے آرہی ہے یوں ہے کہ یہود نے اس امیر زانی یہودی کو کوڑوں کی سزا دی تھی اور اس کا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے گشت کروا رہے تھے تو آپ نے خود ان کو اپنے پاس بلایا۔ اس طرح یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں آگیا۔
[76] یہودی نہ تورات کے متبع تھے نہ نبی کے:۔
فتنہ کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں وہ نہ تو رات کی اتباع کرنے پر تیار تھے اور نہ نبی کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کو تیار تھے بلکہ اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کر رہے تھے۔ کتاب اللہ یعنی تورات کے منکر اس لیے کہ تورات میں رجم کا حکم موجود تھا اور یہ بات وہ خوب جانتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اس لیے کہ وہ فیصلہ کو مشروط طور پر ماننا چاہتے تھے یعنی اگر وہ ان کی خواہش کے مطابق (یعنی کوڑوں کی سزا) ہوا تو مان لیں گے اور اگر خواہش کے مخالف (یعنی رجم کی سزا) ہوا تو نہ مانیں گے لہٰذا یہ اتباع نہ تورات کی ہوئی اور نہ نبی کی بلکہ ان کی اپنی خواہش کی اتباع ہوئی اور جو شخص خود ہی فتنہ میں پڑا رہنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فتنہ کی راہ ہی کھول دیتا ہے اور اللہ کے حکم سے بغاوت کی بنا پر ان کے دلوں کو ایسے خبیث امراض سے پاک نہیں کرتا۔ وہ صرف اس کا دل پاک کرتا ہے جو خود بھی اسے پاک کرنا چاہتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔