ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 17

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ؕ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
بلاشبہ یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنھوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ہی تو ہے، جو مریم کا بیٹا ہے، کہہ دے پھر کون اللہ سے کسی چیز کا مالک ہے، اگر وہ ارادہ کرے کہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور زمین میں جو لوگ ہیں سب کو ہلاک کر دے، اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ En
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
یقیناً وه لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والده اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں و زمین اور دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ یقیناً وہ لوگ کافر ہیں جنہوں نے کہا کہ ”مسیح ابن مریم [45] ہی اللہ ہے“ آپ ان سے پوچھئے کہ: ”اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی والدہ [46] کو اور جو کچھ بھی زمین میں ہے ان سب کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ اللہ کو اس کے ارادہ سے روک سکے؟“ اور جو کچھ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے [47] اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [48]
[45] نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد:۔
یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰؑ کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہو گئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ کے جسم میں حلول کر گیا لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ ایک اللہ دوسرے عیسیٰؑ اور تیسرے روح القدس پھر یہ تین مل کر بھی ایک الہ بنتا ہے۔ پھر مدتوں بعد سیدہ مریم کو بھی الوہیت میں شریک سمجھا جانے لگا (وغیرہ من الخرافات)
[42] عیسائی حضرات عیسیٰؑ اور سیدہ مریمؑ دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰؑ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریمؑ یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔
[47] یعنی اس نے عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدمؑ کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدمؑ کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
[48] یہود و نصاریٰ کا یہ قول کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں:۔
یعنی وہ سزا جو انہیں اس دنیا میں ہی مل رہی ہے اگر وہ فی الواقع اللہ کے محبوب ہیں تو یہ سزا اور رسوائی کیوں ہو رہی ہے۔ سابقہ ادوار میں دو دفعہ تمہیں تباہ و برباد کیا گیا اور آج تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا کوئی اپنے محبوب یا پیاروں کو بھی سزا دیتا اور رسوا کرتا ہے؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ دوسرا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اس لحاظ سے اللہ کے محبوب ہیں اور اخروی عذاب ہمیں نہیں ہو گا۔ اس دعویٰ کی تردید اللہ نے یوں فرمائی کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنی چاہیے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اعمال ہی اس کی نجات اخروی کا ذریعہ بن سکتے ہیں حسب و نسب وہاں کچھ کام نہ آ سکے گا۔
قیامت کے دن حسب و نسب کچھ کام نہ آئے گا:۔
چنانچہ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا اس کا نسب اسے آگے نہ کر سکے گا“
[مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن]
اور جب سورۃ شعراء کی آیت: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبد المطلب! میں تیرے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کر لو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ شعراء۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین]